اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی ایک بڑی فضائی کمپنی WestJet کے چار ہزار سے زائد فضائی معاونین نے طویل عرصے سے جاری ناکام مذاکرات کے بعد انتظامیہ کو دوبارہ سنجیدہ بات چیت کی میز پر آنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پیر کے روز جاری ایک باضابطہ اعلامیے میں تنازع کی اطلاع بھی دے دی گئی ہے، جس سے معاملے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
فضائی معاونین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم Canadian Union of Public Employees کی مقامی شاخ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل ملاقاتوں کے باوجود کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق ستمبر دو ہزار پچیس سے اب تک ہر ماہ تین ہفتوں کے دوران ہفتے میں چار مرتبہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، مگر معاہدے کی صورت میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فضائی معاونین کو اوسطاً ہر ماہ تقریباً پینتیس گھنٹے کام بغیر معاوضہ کرنا پڑتا ہے، جو کہ موجودہ نظام کی خامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق کام کی پیمائش اور اجرت کے تعین کا طریقہ کار پرانا ہو چکا ہے اور موجودہ ذمہ داریوں کے مطابق نہیں رہا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ماضی میں یہ پیشہ اپنی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بہتر معاوضہ فراہم کرتا تھا، مگر وقت کے ساتھ حالات بدل گئے ہیں۔ اب ڈیوٹی کے اوقات زیادہ سخت اور غیر متوازن ہو چکے ہیں، جبکہ آرام کے مناسب انتظامات، جیسے ہوٹل میں یقینی قیام، محفوظ انداز میں فرائض انجام دینے کے لیے ناگزیر ہیں۔
یونین نے واضح کیا ہے کہ وہ تاحال ہڑتال کے مرحلے سے کچھ فاصلے پر ہیں، تاہم ان کی ترجیح ایک منصفانہ اور پائیدار معاہدہ حاصل کرنا ہے جو اس پیشے کی حقیقی صورتحال اور محنت کی قدر کو تسلیم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی کے نظام الاوقات اور بنیادی کام کے حالات میں بہتری بھی ان کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
یونین نے فضائی کمپنی پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدگی سے مذاکرات کرے تاکہ جلد از جلد معاہدہ طے پا سکے اور مسافروں کو کسی ممکنہ خلل سے بچایا جا سکے۔