اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) یورپ کے ساحلی علاقے کینری جزائر میں ایک لگژری کروز شپ میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد صحت کے حکام نے جہاز پر موجود مسافروں کو اتارنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق جہاز میں موجود تقریباً 150 افراد میں سے کسی میں بھی اس وقت تک بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔تفصیلات کے مطابق ایم وی ہونڈیس نامی کروز شپ، جو ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ سے متاثر ہوا تھا، اسپین کے کینری جزائر کے سب سے بڑے جزیرے ٹینیرف تک پہنچ گیا ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد مسافروں اور عملے کو مرحلہ وار جہاز سے اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس جہاز میں 20 سے زائد مختلف ممالک کے شہری موجود ہیں۔صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تمام مسافر اور عملہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان میں وائرس کی کوئی علامت موجود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک جہاز پر موجود کسی بھی شخص میں انفیکشن کی علامات سامنے نہیں آئیں۔
اس صورتحال میں مختلف ممالک اپنے شہریوں کو واپس لے جانے کے لیے خصوصی پروازیں بھیج رہے ہیں، تاہم کینیڈا کی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اپنے چار شہریوں کو کس طرح واپس لائے گی جو اس جہاز پر موجود تھے۔کینیڈا کے چیف پبلک ہیلتھ آفیسر کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے چھ کینیڈین شہریوں میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور وہ اپنے گھروں میں خود کو الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو مسافر وہ ہیں جو اپریل کے آخر میں جہاز سے اتر گئے تھے، جبکہ چار افراد دو مختلف پروازوں کے دوران ممکنہ طور پر متاثر ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق جہاز سے مسافروں کے انخلا کا عمل مرحلہ وار اور سخت طبی نگرانی میں جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ صحت کے ماہرین صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور مسافروں کی مکمل اسکریننگ کی جا رہی ہے۔یہ واقعہ کروز سفر کی صنعت کے لیے ایک تشویش ناک صورتحال قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے اور کسی بڑے پھیلاؤ کے شواہد موجود نہیں ہیں۔