اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایک اور مریض اسپتال میں علاج کا انتظار کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد صوبے کے صحت کے نظام پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
البرٹا میڈیکل ایسوسی ایشن نے واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ مریضوں کی جانیں لے رہا ہے۔البرٹا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر برائن ورزبا کے مطابق متاثرہ شخص 8 مئی کو ایڈمنٹن کے رائل الیگزینڈرا اسپتال پہنچا تھا، تاہم کئی گھنٹے انتظار کے بعد وہ ایمرجنسی وارڈ کے انتظار گاہ میں ہی دم توڑ گیا۔ حکام نے مریض کی شناخت اور طبی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔البرٹا ہیلتھ سروسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رازداری کے قوانین کے باعث مزید معلومات جاری نہیں کی جا سکتیں۔
تاہم اس افسوسناک واقعے نے صوبے کے صحت کے نظام کی کارکردگی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ دسمبر میں بھی 44 سالہ پرشانت سری کمار ایڈمنٹن کے گری ننس کمیونٹی اسپتال میں تقریباً آٹھ گھنٹے انتظار کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد البرٹا حکومت نے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اسپتالوں میں مریضوں کی فوری جانچ اور ترجیحی بنیادوں پر علاج کے لیے ڈاکٹروں پر مشتمل خصوصی نظام متعارف کرایا جائے گا۔
ڈاکٹر برائن ورزبا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ یہ نیا نظام تاحال نافذ نہیں کیا جا سکا، جبکہ اسپتالوں میں طبی عملہ شدید دباؤ اور تھکن کا شکار ہے۔ ان کے مطابق حالیہ موت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صحت کا موجودہ ڈھانچہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا ہے۔صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی وارڈز میں عملے اور سہولیات میں فوری اضافہ کیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔