اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ممکنہ احتجاج کے باعث سیاحوں اور مسافروں کے لیے خصوصی سفری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک ہزار پنجاب رینجرز، دو ہزار فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار، دو ہزار اسلام آباد پولیس اور ایک ہزار سندھ پولیس اہلکار آزاد کشمیر بھیجے جائیں گے۔
یہ اقدامات کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو دی گئی ہڑتال کی کال کے بعد کیے گئے ہیں۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوامی نقل و حرکت اور معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے جاری کردہ سفری ایڈوائزری میں شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانچ جون سے بیس جون تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ حکومت نے سیاحت یا دیگر مقاصد کے لیے آزاد کشمیر آنے کا ارادہ رکھنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر کو مؤخر کر دیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ احتجاجی صورتحال کے باعث سڑکوں کی بندش، آمدورفت میں رکاوٹ اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ حکومت نے آزاد کشمیر میں موجود سیاحوں اور زائرین کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ جون کی شام تک واپس روانہ ہو جائیں تاکہ کسی غیر متوقع صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحوں اور مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔