اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کسی بھی نئے بحری راستے کے اعلان کو ناقابلِ قبول قرار دیدیا ۔
اس طرح کے اعلان کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس حساس آبی گزرگاہ میں یکطرفہ اقدامات خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ اور قانونی گزرگاہ صرف انہی مخصوص بحری راستوں کے ذریعے ممکن ہے جنہیں ایران نے بین الاقوامی بحری اصولوں کے مطابق باقاعدہ طور پر مقرر کیا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ان منظور شدہ راستوں سے ہٹ کر کسی بھی نئے روٹ کا اعلان یا استعمال نہ صرف علاقائی استحکام کو متاثر کرے گا بلکہ بحری جہازوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا نیا بحری نظام متعارف کرانے سے قبل متعلقہ قوانین اور موجودہ ضوابط کا مکمل احترام ضروری ہے۔بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور بحری نقل و حرکت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے مقرر کردہ نیویگیشن نظام پر عمل درآمد جاری رکھے گا اور کسی بھی غیر مجاز اقدام کی مخالفت کرے گا۔