اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں جوہری توانائی کے شعبے میں توسیع کے منصوبے کے تحت بننے والے پہلے ری ایکٹرز کے لیے ایندھن کی افزودگی (Enrichment) اور تیاری غیر ملکی کمپنیوں پر منحصر ہوگی۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم مارک کارنی توانائی کی خودمختاری کو کینیڈا کی قومی خودمختاری کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
اونٹاریو میں کلیرنگٹن کے علاقے میں ڈارلنگٹن نیو نیوکلیئر پروجیکٹ کے تحت چار بی ڈبلیو آر ایکس-300 (BWRX-300) چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) میں سے پہلے ری ایکٹر کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، جسے 2030 کے اختتام تک قومی بجلی کے نظام سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ باقی تین ری ایکٹرز 2030 کی دہائی کے وسط تک مکمل کیے جائیں گے۔
کینڈو سے مختلف نظام
یہ منصوبہ کینیڈا کے روایتی کینڈو (CANDU) ری ایکٹرز سے مختلف ہے۔ کینڈو ری ایکٹرز قدرتی یورینیم استعمال کرتے ہیں، جس کی افزودگی کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا ایندھن زیادہ تر ملک کے اندر ہی تیار کیا جاتا رہا ہے۔
اس کے برعکس نئے بی ڈبلیو آر ایکس-300 ری ایکٹرز کم افزودہ یورینیم استعمال کریں گے، جس کی افزودگی کینیڈا میں نہیں بلکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک میں کی جائے گی۔
غیر ملکی سپلائی چین
منصوبے کے مطابق ساسکاچیوان سے یورینیم نکالنے والی کمپنی کیمیکو خام یورینیم حاصل کرے گی، جسے اونٹاریو کے پورٹ ہوپ میں ابتدائی مرحلے سے گزارنے کے بعد افزودگی کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔
اس کے علاوہ فرانس کی اورانو (Orano) اور برطانیہ کی یورینکو (Urenco) بھی افزودہ یورینیم فراہم کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہیں، جبکہ تیار شدہ ایندھن کے اسمبلی یونٹس ایک امریکی کمپنی امریکہ میں تیار کرے گی۔
ماہرین کے تحفظات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کینیڈا کے جوہری پروگرام کے بنیادی تصور سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق کینڈو پروگرام کا مقصد ہی ایسا نظام قائم کرنا تھا جس میں کینیڈا غیر ملکی افزودہ یورینیم پر انحصار سے بچ سکے اور مکمل طور پر ملکی سپلائی چین برقرار رکھے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کے نئے جوہری ری ایکٹر غیر ملکی افزودہ یورینیم پر انحصار کریں گے، توانائی کی خودمختاری پر نئی بحث چھڑ گئی
یارک یونیورسٹی کے پروفیسر مارک ون فیلڈ کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی سیاسی یا سفارتی تنازع کے باعث بیرونی ممالک نے یورینیم کی فراہمی محدود کر دی تو کینیڈا کے جوہری بجلی گھروں کی ایندھن سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومت کا مؤقف
اونٹاریو کے وزیر توانائی اسٹیفن لیچے کا کہنا ہے کہ اس وقت کینیڈا کے پاس ایسی مقامی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی جو تجارتی بنیادوں پر بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار ہو، اسی لیے حکومت نے بین الاقوامی سطح پر دستیاب بہترین ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا۔
ان کے مطابق امریکہ، فرانس اور برطانیہ جیسے متعدد سپلائرز سے معاہدے کیے گئے ہیں تاکہ سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
لاگت پر سوالات
برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ایم وی رامانا کا کہنا ہے کہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز روایتی بڑے جوہری ری ایکٹرز کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈارلنگٹن منصوبہ جی-7 ممالک میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا، تاہم نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کے اخراجات اور کارکردگی کے بارے میں ابھی مکمل یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
مقامی افزودگی کا امکان
ماہرین کے مطابق اگر کینیڈا مکمل توانائی خودمختاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی یورینیم افزودگی کی صنعت قائم کرنا ہوگی۔ تاہم اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید حفاظتی نظام اور سخت بین الاقوامی نگرانی درکار ہوگی۔
قدرتی وسائل کی وزارت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ابھی ملک میں تجارتی سطح پر یورینیم افزودگی شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم صوبائی حکومتوں اور صنعت کے ساتھ مل کر مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے "نیوکلیئر فیولز ٹیبل” قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے ری ایکٹرز استعمال شدہ جوہری ایندھن کی مقدار اور نوعیت میں بھی تبدیلی لائیں گے۔ ان کے مطابق کینیڈا کے موجودہ 26 ارب ڈالر مالیت کے جوہری فضلے کے انتظامی منصوبے کا تخمینہ کینڈو ری ایکٹرز کے مطابق لگایا گیا تھا، جبکہ نئے ری ایکٹرز سے پیدا ہونے والے فضلے کے اضافی اخراجات کا ابھی تک کوئی باضابطہ اندازہ سامنے نہیں آیا۔