اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کے تحت پانچویں قسط کے حصول کے لیے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کے اگلے جائزے کے لیے مذاکرات آئندہ ماہ ہوں گے، جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔
وزارتِ خزانہ نے مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ضروری ڈیٹا، رپورٹس اور پیش رفت کی تفصیلات مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پروگرام کی شرائط اور مقررہ اہداف پر مکمل بریفنگ دی جاسکے۔
وزارتوں کو تیاری کی ہدایت
ذرائع کے مطابق متعلقہ وزارتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات، اصلاحات اور اہداف کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق رپورٹس تیار کریں۔
حکام کی جانب سے اسٹرکچرل بینچ مارکس اور معاشی اصلاحات پر ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات بھی مرتب کی جارہی ہیں، جنہیں آئی ایم ایف وفد کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
توانائی شعبہ اہم موضوع
آئندہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اہم موضوعات میں شامل ہوں گی۔ پاکستان کی جانب سے بجلی اور گیس کے شعبوں میں اصلاحات اور ان کے تحت کیے جانے والے اقدامات سے متعلق پیش رفت سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے میں موجود سرکلر ڈیٹ بھی مذاکرات کے اہم نکات میں شامل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے سرکلر ڈیٹ میں کمی اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔
معاشی اہداف کا جائزہ
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کیے گئے مختلف معاشی اہداف اور اصلاحات پر بھی بات چیت ہوگی۔متعلقہ وزارتیں اور ادارے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت، مقررہ اہداف پر عمل درآمد اور مستقبل کے اقدامات سے متعلق تفصیلات تیار کررہے ہیں۔
حکومت کی کوشش ہوگی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی پیش رفت مؤثر انداز میں پیش کی جائے۔
1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں موجودہ قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں :گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط، سرکاری کمپنیوں کے نقصانات بُک کرنے کا مطالبہ
اس رقم میں تقریباً ایک ارب ڈالر پانچویں قسط کی مد میں شامل ہوں گے، جبکہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔
یہ اضافی رقم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور قدرتی آفات سے متاثرہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
آئی ایم ایف وفد کا دورہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ پروگرام کے جائزے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔ مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام مختلف شعبوں میں ہونے والی اصلاحات اور اہداف پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
وزارتِ خزانہ نے مذاکرات سے قبل تمام متعلقہ اداروں کو مطلوبہ معلومات اور رپورٹس مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے تاکہ جائزے کے دوران کسی بھی معاملے پر تفصیلی وضاحت فراہم کی جاسکے۔
اگر مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے اور پروگرام کے اہداف پر اتفاق ہوگیا تو پاکستان کے لیے پانچویں قسط اور موسمیاتی فنانسنگ کی رقم کے حصول کی راہ ہموار ہوجائے گی، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن کو بھی سہارا ملنے کی توقع ہے۔