اردورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کے گیس سیکٹر میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کے مالی نقصانات کو باضابطہ طور پر ان کے اکاؤنٹس میں درج کیا جائے تاکہ ان کی حقیقی مالی صورتحال واضح ہو سکے اور گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں :آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز،آئی ایم ایف سے منظوری کا انتظار
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ جب تک گیس کمپنیوں کے اصل مالی نقصانات کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ان کی درست مالی پوزیشن سامنے نہیں آ سکتی اور نہ ہی گردشی قرضے کے مسئلے کا دیرپا حل ممکن ہے۔
ناقابل وصول رقوم کو بھی نقصان قرار دینے کی تجویز
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وہ رقوم جن کی وصولی اب ممکن نہیں رہی، انہیں بھی کمپنیوں کے مالی ریکارڈ میں نقصان کے طور پر درج کیا جائے۔
آئی ایم ایف کے مطابق برسوں سے واجب الادا اور ناقابل وصول رقوم کو اثاثوں کے طور پر ظاہر کرنے کے بجائے انہیں نقصان تصور کیا جانا چاہیے تاکہ کمپنیوں کے مالی حسابات زمینی حقائق کے مطابق ہو سکیں۔
ری کیپٹلائزیشن کی شرط بھی سامنے آگئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ نقصانات کو باضابطہ طور پر اکاؤنٹس میں شامل کرنے کے بعد دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کو دوبارہ ری کیپٹلائز کیا جائے۔
اس تجویز کا مقصد یہ ہے کہ کمپنیوں کو نئی مالی معاونت فراہم کر کے ان کی مالی پوزیشن بہتر بنائی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں پوری کر سکیں اور گیس سیکٹر میں مالی استحکام پیدا ہو۔
شیئرز کی مالیت میں کمی کا خدشہ
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ان شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں سرکاری گیس کمپنیوں کے شیئرز کی مالیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مالی ماہرین کا خیال ہے کہ جب کمپنیوں کے نقصانات باضابطہ طور پر ظاہر کیے جائیں گے اور ناقابل وصول رقوم کو بھی نقصان قرار دیا جائے گا تو اس کے نتیجے میں کمپنیوں کی مالی قدر میں کمی آ سکتی ہے۔
اسی خدشے کے باعث پٹرولیم ڈویژن کے حکام ان شرائط کو فوری طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اس معاملے پر مزید مشاورت چاہتے ہیں۔
گردشی قرضہ 3 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گیا
ذرائع کے مطابق اس وقت گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج بن چکا ہے۔
گردشی قرضے میں مسلسل اضافے کے باعث گیس کمپنیوں کی مالی مشکلات بڑھ رہی ہیں، جبکہ حکومت بھی اس مسئلے کے قابل عمل حل کی تلاش میں ہے۔
ایک ہزار 700 ارب روپے کی سیٹلمنٹ تجویز زیر غور
ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور سیٹلمنٹ پلان کے تحت مجموعی طور پر ایک ہزار 700 ارب روپے کے گردشی قرضے کو نمٹانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد گردشی قرضے کے ایک بڑے حصے کو ختم کر کے گیس سیکٹر پر مالی دباؤ کم کرنا اور کمپنیوں کی مالی صورتحال کو بہتر بنانا ہے، تاہم اس منصوبے کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
ورچوئل مذاکرات میں اتفاق نہ ہو سکا
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان حالیہ ورچوئل مذاکرات میں گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
مذاکرات کے دوران مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کئی اہم نکات پر دونوں فریق کسی مشترکہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
ستمبر میں دوبارہ مذاکرات متوقع
ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر ستمبر میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے، جہاں گردشی قرضے کے حل کے لیے نئے سیٹلمنٹ پلان پر مزید غور کیا جائے گا۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مرتب ہونے والا سیٹلمنٹ پلان آئی ایم ایف کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے گا، جس میں نقصانات کو باضابطہ طور پر بُک کرنا، ناقابل وصول رقوم کو نقصان قرار دینا اور بعد ازاں گیس کمپنیوں کی ری کیپٹلائزیشن جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات میں انہی تجاویز پر مزید تفصیلی بات چیت متوقع ہے، جس کے بعد گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق آئندہ حکمت عملی اور سیٹلمنٹ پلان کی حتمی شکل سامنے آنے کا امکان ہے۔