اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں مبینہ اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد واشنگٹن کی جنگی حکمت عملی ایک بار پھر زیر بحث آگئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی آپشنز محدود ہونے پر پینٹاگون سے وضاحت طلب کی، جس سے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ امریکا واقعی ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی اقدام کے لیے کس حد تک تیار ہے۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے، تاہم یہ معاملہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایران جیسے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف سیاسی خواہش نہیں بلکہ پیچیدہ عسکری منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔
اسلحہ ذخائر پر سوالات کیوں اٹھے؟
رپورٹس کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے مبینہ طور پر سوال کیا کہ انہیں امریکی گولہ بارود کی صورتحال کے بارے میں مکمل معلومات کیوں نہیں دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط، معاہدہ فوری نافذ العمل ہوگا
خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی کمی کا ذکر کیا گیا، جو کسی بھی بڑے فوجی آپریشن میں انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ایران کے خلاف کارروائی کی صورت میں امریکا کو نہ صرف حملہ کرنے بلکہ اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے بھی بڑی مقدار میں جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہوگی۔
ایران کے خلاف جنگ آسان فیصلہ نہیں
ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی عراق یا افغانستان جیسا آسان معاملہ نہیں ہوگا۔ ایران کے پاس مضبوط میزائل نظام، ڈرون صلاحیتیں اور خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والے اتحادی موجود ہیں۔
امریکا اگر ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اسے صرف ابتدائی حملے کے نتائج نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات تیل کی عالمی قیمتوں، تجارت اور علاقائی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی سے ہی ایران کے خلاف سخت پالیسی کے حامی رہے ہیں۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا غصہ اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں تیز اور فیصلہ کن نتائج چاہتے ہیں، لیکن فوجی ادارے کسی بھی کارروائی سے پہلے زمینی حقائق اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہیں۔
پینٹاگون نے الزامات مسترد کردیے
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر مکمل اعتماد ہے اور گولہ بارود کے ذخائر یا اندرونی اختلافات سے متعلق دعوے درست نہیں۔پینٹاگون کے مطابق امریکی فوج اپنی ضروریات کا مسلسل جائزہ لیتی ہے اور دفاعی تیاریوں کے معاملات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔
جنگ یا مذاکرات کا راستہ؟
ایران کے معاملے میں امریکا کے سامنے ہمیشہ دو راستے رہے ہیں، ایک فوجی دباؤ اور دوسرا سفارتی حل۔اگرچہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن ایک بڑی جنگ کے خطرات بھی امریکی پالیسی سازوں کے سامنے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکا اکثر پابندیوں، سفارتی دباؤ اور محدود فوجی اقدامات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکا کے لیے بڑا امتحان
ایران کے خلاف پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ صدر سخت رویہ اپنانا چاہتے ہیں، لیکن فوجی صلاحیتیں، عالمی ردعمل اور ممکنہ نقصانات کسی بھی فیصلے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
حالیہ تنازع یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے امریکا کو صرف طاقت نہیں بلکہ طویل مدتی حکمت عملی، اتحادی تعاون اور خطے کے ممکنہ ردعمل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
