اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات سے متعلق مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں.
دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں مستقبل کے بحری انتظامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے اور ان مذاکرات کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں۔
مذاکرات صرف ایران اور عمان کے درمیان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ممکنہ سمجھوتہ جہاز رانی کے انتظامی طریقہ کار اور نئی بحری راہداری کے قیام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت نہیں اور یہ مکمل طور پر دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے،امریکی میڈیا نے بڑا دعوی کر دیا
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں بحری نقل و حمل کے لیے ایک قابل عمل طریقہ کار وضع کرنا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ اس سے الگ معاملہ ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط کیا ہے؟
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنی مبینہ خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا۔ ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کی بحالی کو واشنگٹن کے رویے میں تبدیلی سے مشروط قرار دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ عمان کے ساتھ کسی نئی مشترکہ بحری راہداری پر اتفاق ممکن ہے، لیکن اس سے موجودہ صورتحال میں فوری تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
نئی بحری راہداری پر بھی غور
اطلاعات کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں ایک نئے مشترکہ بحری راستے یا متبادل انتظام پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ان مذاکرات میں مداخلت سے گریز کرے تو دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے انتظام پر اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
عمان اور امریکا کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا
تاحال عمانی حکومت نے ایران کے دعووں یا ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ اسی طرح امریکی حکام کی جانب سے بھی ان رپورٹس پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث مذاکرات کی تفصیلات بدستور غیر واضح ہیں۔
عالمی منڈیاں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے سے متعلق ہر پیش رفت عالمی توانائی کی منڈیوں، شپنگ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
