اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی ٹیرف ڈیڈ لائن میں صرف چند روز باقی رہ گئے ہیں۔
مذاکرات سے باخبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس وقت ایسے مقام پر نہیں پہنچ سکے جہاں کسی حتمی تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا جاسکے، جبکہ کینیڈین حکام امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجویز سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے منگل کو کینیڈا کے سامنے ایک نئی تجویز پیش کی، جس میں بعض شعبوں پر عائد ٹیرف کم کرنے کی پیشکش کی گئی، تاہم کینیڈا جس حد تک ٹیرف میں کمی چاہتا ہے، امریکی پیشکش اس سے کم ہے۔
مذاکرات سے واقف دونوں ممالک کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی کئی اہم معاملات پر اختلاف موجود ہے۔
50 فیصد ٹیرف کی تلوار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 اگست سے سیکڑوں کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ یہ نیا ٹیکس ان شعبہ جاتی ٹیرف کے علاوہ ہوگا جو پہلے ہی مختلف کینیڈین مصنوعات پر نافذ ہیں۔
اسی ڈیڈ لائن کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے مذاکرات کار گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل بات چیت کررہے ہیں تاکہ کسی ایسے معاہدے تک پہنچا جاسکے جس سے نئے بھاری ٹیرف سے بچا جاسکے۔
کینیڈا کی جانب سے امریکی حکام کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اگر 19 اگست کا 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا تو کینیڈین عوام اور سیاسی حلقوں میں امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت مزید کم ہوسکتی ہے۔
امریکا کی نئی شرائط
ذرائع کے مطابق امریکی حکومت ایسے معاہدے کی خواہاں ہے جس کے تحت اسے کینیڈا کے اہم معدنی وسائل تک ترجیحی رسائی حاصل ہو۔
اس کے علاوہ مجوزہ معاہدے میں توانائی اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکا کی جانب سے کینیڈا سے بعض دیگر تجارتی شکایات دور کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا چاہتا ہے کہ امریکا اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں سمیت اہم شعبوں پر عائد اضافی ٹیرف میں نمایاں کمی کرے۔
لی بلانک واشنگٹن میں
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تین مرتبہ واشنگٹن میں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کرچکے ہیں۔
لی بلانک اور کینیڈا کی چیف ٹریڈ نیگوشی ایٹر جینس شریٹ منگل کو گریر کے دفتر سے نکلتے ہوئے بھی نظر آئے، تاہم دونوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
بعد ازاں لی بلانک نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ شریٹ کے ساتھ مذاکراتی میز پر بات چیت جاری رکھیں گے۔لی بلانک کا دفتر بدھ کی رات تک تصدیق کرچکا تھا کہ وزیر تجارت اور چیف مذاکرات کار واشنگٹن میں موجود ہیں۔
ٹیرف میں ریلیف کا مطالبہ
کینیڈا کی کوشش ہے کہ نئے 50 فیصد ٹیرف سے بچنے کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے پہلے سے عائد شعبہ جاتی ٹیرف میں بھی کمی کرائی جائے۔
کینیڈین حکومت خاص طور پر اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور آٹوموبائلز پر عائد ٹیرف میں ریلیف چاہتی ہے۔کینیڈا یہ بھی چاہتا ہے کہ موجودہ مذاکرات مستقبل میں کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے CUSMA کی تجدید کی راہ ہموار کریں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ 2036 کے بعد اس معاہدے کو توسیع دینے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد کینیڈا کے لیے مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
روزانہ مذاکرات کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے 19 اگست کی ڈیڈ لائن تک مختلف سطحوں پر روزانہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔اس کا مقصد کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کرنا اور صدر ٹرمپ کے سامنے قابل قبول تجارتی پیکیج پیش کرنا ہے۔
مذاکرات کاروں کی کوشش ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کا راستہ جلد از جلد تیار کیا جائے تاکہ اسے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
کینیڈا پر دباؤ بڑھ گیا
نئی امریکی پیشکش نے کینیڈا کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ایک طرف حکومت بھاری امریکی ٹیرف سے بچنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسے یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکا کے مطالبات کو کس حد تک تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کینیڈین حکام تازہ امریکی پیشکش کو ناکافی سمجھتے ہیں کیونکہ بعض شعبوں میں ٹیرف میں کمی کی پیشکش مطلوبہ سطح سے کم ہے۔
کینیڈا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر اسے امریکی مطالبات پر پیش رفت کرنی ہے تو اس کے بدلے میں اسے واضح اور قابل ذکر ٹیرف ریلیف ملنا چاہیے۔
شراب کا تنازع بھی اہم
امریکی حکومت نے کینیڈا کی جانب سے بعض امریکی مصنوعات کے خلاف کیے گئے اقدامات کو بھی تجارتی تنازعات میں شامل کیا ہے۔
ان میں امریکی شراب کو کینیڈا کے صوبائی اسٹورز کی شیلفوں سے ہٹانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ واشنگٹن نے اسے امریکی تجارتی پالیسی کے خلاف کینیڈا کے ردعمل کا حصہ قرار دیا ہے۔
کینیڈین حکام ان مطالبات میں سے بعض پر سمجھوتے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ صنعتی ذرائع کے مطابق کینیڈا ٹیرف میں ریلیف کے بدلے امریکی شراب پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات پر غور کررہا ہے۔
اپوزیشن کا دباؤ
کینیڈا میں تجارتی مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے وزیراعظم مارک کارنی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ حکومت امریکا کے ساتھ مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کرے اور کینیڈا کے مفادات پر سمجھوتہ نہ کرے۔
پوئیلیور کے مطابق کینیڈین شہری ایک ایسے معاہدے کے مستحق ہیں جس میں نرم لکڑی پر صفر ٹیرف، اسٹیل اور ایلومینیم پر شعبہ جاتی ٹیرف کا خاتمہ اور گاڑیوں کے لیے ٹیرف فری انتظام شامل ہو۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ’’بائے امریکا‘‘ قوانین سے کینیڈا کو مکمل استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔
فیصلہ کن ہفتہ
اب کینیڈا اور امریکا کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ 19 اگست کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ دونوں حکومتوں کے پاس وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔
اگر دونوں ممالک باقی اختلافات دور کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو سیکڑوں کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا، جس سے پہلے ہی کشیدہ کینیڈا۔امریکا تجارتی تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔
تاہم روزانہ مذاکرات اور واشنگٹن میں کینیڈین حکام کی مسلسل موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک آخری لمحے تک کسی ممکنہ تجارتی سمجھوتے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
