چرچل فالز معاہدہ آخری مرحلے میں داخل، کیوبیک اور نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور میں جلد ڈیل متوقع

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبوں کیوبیک اور نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے درمیان چرچل فالز ہائیڈرو پاور منصوبے سے متعلق نئے معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق دونوں صوبائی حکومتیں نئے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں اور باقی رہ جانے والے چند معاملات بھی جلد طے ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے صرف دو یا تین اہم نکات ابھی زیر بحث ہیں، تاہم دونوں حکومتیں انہیں حل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے کے آغاز میں کیا جاسکتا ہے۔تاہم نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے پریمیئر ٹونی ویکہم کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی معاہدہ دستخط نہیں ہوا۔

بڑی پیش رفت

پریمیئر ٹونی ویکہم کے ترجمان ایشلے پولیٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران کیوبیک اور کینیڈا کی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

ان کے مطابق دونوں حکومتیں 2024 کی یادداشتِ مفاہمت کی جگہ چرچل فالز اور گل آئی لینڈ کے حوالے سے ایک نئے معاہدے پر کام کررہی ہیں۔

کیوبیک کی پریمیئر کرسٹین فریشیت کے ترجمان نے بھی معاملے پر فوری طور پر تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ اس معلومات کی نہ تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ ہی تردید۔

چرچل فالز کیوں اہم؟

چرچل فالز کینیڈا کے اہم ترین ہائیڈرو پاور منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور میں واقع ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی بجلی کی فروخت اور آمدنی کا بڑا معاملہ طویل عرصے سے کیوبیک کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

دونوں صوبوں کے درمیان چرچل فالز کی بجلی سے متعلق پرانا معاہدہ 1969 میں طے پایا تھا۔ نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور میں اس معاہدے کو طویل عرصے سے غیر منصفانہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور صوبائی سیاست میں یہ ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے۔

نئے معاہدے کا مقصد اسی پرانے انتظام کو ختم کرکے ایک نیا فریم ورک تشکیل دینا ہے، جس کے تحت چرچل فالز سے حاصل ہونے والی بجلی اور اس کی آمدنی میں نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے مفادات کو زیادہ اہمیت دی جاسکے۔

2024 کا معاہدہ

چرچل فالز کے مستقبل سے متعلق موجودہ مذاکرات کی بنیاد دسمبر 2024 میں سابق لبرل پریمیئر اینڈریو فیوری اور کیوبیک حکومت کے درمیان ہونے والی یادداشتِ مفاہمت تھی۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا، امریکا تجارتی معاہدہ ٹوٹنے کا خطرہ، 3 لاکھ 16 ہزار ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ

اس معاہدے کا مقصد 1969 کے متنازع معاہدے کو ختم کرکے ایک نئے انتظام کی بنیاد رکھنا تھا۔ 2024 کی یادداشت میں گل آئی لینڈ پر ایک بڑے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی ترقی کا وعدہ بھی شامل تھا۔

گل آئی لینڈ بھی دریائے چرچل پر واقع ایک طویل عرصے سے زیر بحث منصوبہ ہے، جسے مکمل کرنے کی بات کئی برسوں سے کی جاتی رہی ہے۔

معاہدہ حتمی نہ ہوسکا

2024 کی یادداشتِ مفاہمت کو اپریل 2026 تک باضابطہ معاہدے میں تبدیل کیا جانا تھا، تاہم یہ عمل مقررہ وقت تک مکمل نہ ہوسکا۔

اکتوبر 2025 کے صوبائی انتخابات کے بعد نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور میں نئی پروگریسو کنزرویٹو حکومت قائم ہوئی۔ نئی حکومت نے سابق حکومت کے طے کردہ معاہدے کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

رواں سال موسم بہار میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ 2024 کی یادداشتِ مفاہمت عوامی مفاد میں نہیں تھی۔

ریفرنڈم کا وعدہ

انتخابی مہم کے دوران پریمیئر ٹونی ویکہم نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ چرچل فالز کی یادداشتِ مفاہمت کو عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کیا جائے گا۔

تاہم حکومت سنبھالنے کے بعد ویکہم اس معاملے پر زیادہ تفصیلات دینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ پہلے ایک نیا معاہدہ ہونا ضروری ہے، جس کے بعد اس سے متعلق آئندہ اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

کیوبیک اور نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے درمیان مذاکرات دوبارہ جون میں شروع ہوئے تھے اور اب یہ بات چیت اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

اپوزیشن کا شدید ردعمل

دوسری جانب نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کی اپوزیشن لبرل پارٹی نے حکومت کی جانب سے معلومات فراہم کرنے کے انداز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صوبے کے شہریوں کو ایک مرتبہ پھر اپنے ہی حکومت سے پہلے کیوبیک کے میڈیا کے ذریعے چرچل فالز معاہدے سے متعلق معلومات مل رہی ہیں۔

اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پریمیئر ٹونی ویکہم کو نئے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔اپوزیشن کے مطابق میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نیا معاہدہ طے پاچکا ہے، تاہم اس کے بنیادی نکات سابق یادداشتِ مفاہمت سے کافی حد تک ملتے جلتے ہیں۔

حتمی اعلان کا انتظار

اگرچہ ذرائع کے مطابق دونوں حکومتیں نئے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں، تاہم نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور حکومت نے واضح کردیا ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ دستخط نہیں ہوا۔

اب نظریں آئندہ چند دنوں میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگر باقی رہ جانے والے دو یا تین معاملات پر اتفاق ہوگیا تو ممکنہ طور پر اگلے ہفتے چرچل فالز اور گل آئی لینڈ سے متعلق نئے معاہدے کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

یہ معاہدہ نہ صرف دونوں صوبوں کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط توانائی کے تنازع کو نئی سمت دے سکتا ہے بلکہ نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے لیے مستقبل میں ہائیڈرو پاور سے حاصل ہونے والی آمدنی اور گل آئی لینڈ کی ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں