اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا حکومت نے جمعرات کے روز صحتِ عامہ کے شعبے میں "ڈوئل پریکٹس” (Dual Practice) ماڈل متعارف کروایا، جسے ستمبر سے نافذ کیا جائے گا۔
اس نئے نظام کے تحت ڈاکٹر سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں کام کر سکیں گے اور دونوں جگہ سرجریوں کے عوض معاوضہ حاصل کریں گے۔ تاہم، عام فیملی ڈاکٹر اس پروگرام کے اہل نہیں ہوں گے، سوائے اُن کے جنہیں اینستھیزیا یا سرجیکل اسسٹنس کا تجربہ ہو۔
اس پروگرام کے تحت صرف وہی سرجریاں کی جا سکیں گی جنہیں البرٹا کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز نے منظور کیا ہے۔ ان میں کولہے اور گھٹنے کی تبدیلی، موتیے کی سرجری، کان، ناک اور گلے کی بعض سرجریاں، گائناکالوجی، جلد اور پلاسٹک سرجری، اور ہرنیا کی مرمت جیسی جراحی کارروائیاں شامل ہیں۔
ہنگامی اور جان بچانے والی خدمات، مثلاً کینسر کا علاج، بدستور سرکاری نظام کے تحت ہی مفت فراہم کی جائیں گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے ماڈل سے سرجریوں کی تعداد بڑھے گی، انتظار کی فہرستیں کم ہوں گی اور شہریوں کو علاج کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت این ڈی پی نے اسے امریکی طرز کے نجی اور منافع بخش صحت کے نظام کی طرف ایک قدم قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ نیا نظام کینیڈا کے صحت کے قوانین کے مطابق ہوگا اور کسی بھی شہری کو طبی طور پر ضروری علاج کے لیے اپنی جیب سے رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔