کینیڈا، امریکا تجارتی مذاکرات میں شراب کی پابندیاں اہم معاملہ بن گئیں، امریکی کاروبار مشکلات میں پھنس گئے

اردو ورلڈ کینیڈا ( وی نیوز ) کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں امریکی شراب اور دیگر الکوحل مصنوعات پر کینیڈین صوبوں کی عائد کردہ پابندیاں ایک مرتبہ پھر مرکزی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

کینیڈین حکومت کی جانب سے صوبوں سے امریکی شراب کو دوبارہ دکانوں کی شیلف پر رکھنے پر غور کرنے کی درخواست کے بعد امریکی شراب سازوں اور ڈسٹلرز میں محتاط امید پیدا ہوئی ہے، تاہم صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ عرصے میں پیدا ہونے والے نقصانات اور ٹوٹے ہوئے تجارتی تعلقات کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔

امریکی کاروباری حلقوں کے مطابق وہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان وسیع تر تجارتی تنازع میں براہ راست فریق نہیں، لیکن اس کے اثرات سب سے زیادہ انہی پر پڑ رہے ہیں۔ شراب سازوں کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات اور کاروبار کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں۔

معمول کی تجارت اچانک رک گئی

کیلیفورنیا کے سیرا فوٹ ہلز علاقے میں شراب تیار کرنے والے کاروباری شخصیت بل ایسٹن کے لیے کینیڈا ایک اہم منڈی تھی۔ ان کی وائنری سے تیار ہونے والی سائرہ شراب کی کھیپ باقاعدگی سے مونٹریال پہنچتی تھی۔ تقریباً ہر چھ ہفتے بعد ایک ٹرک شراب کی نئی کھیپ لینے آتا اور اس کے بعد ادائیگی ان کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچ جاتی تھی۔

یہ معمول اس وقت ختم ہوگیا جب کیوبیک نے امریکی شراب کو اپنی دکانوں کی شیلف سے ہٹا دیا۔ اب ایسٹن کی وائنری میں تیار شدہ شراب فروخت ہونے کے بجائے گودام میں پڑی رہتی ہے، جس پر درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ایسٹن کے مطابق ان کی ایسی شراب بھی گودام میں موجود ہے جس کی پیکیجنگ انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں کی گئی تھی اور جسے خاص طور پر کیوبیک کی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ پابندی کے باعث یہ مصنوعات صارفین تک پہنچنے کے بجائے ذخیرہ گاہ میں انتظار کر رہی ہیں۔

امریکی شراب سازوں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان

ایسٹن کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی شراب پر پابندی کے باعث انہیں گزشتہ سال تقریباً پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی آمدنی کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کے لیے مسئلہ صرف فروخت میں کمی تک محدود نہیں بلکہ تیار شدہ مصنوعات کو محفوظ رکھنے، گودام کے اخراجات اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے بھی کاروباری دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسان اور شراب ساز ہیں جو ان لوگوں کو اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں جو ان کے ذائقے اور معیار کو پسند کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں انہیں ایک ایسے بین الاقوامی تنازع میں کھینچ لیا گیا ہے جس میں ان کا براہ راست کوئی کردار نہیں۔

ایسٹن اور ان جیسے دیگر کاروباری افراد کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگرچہ حکومتیں مذاکرات کے ذریعے کوئی سمجھوتا کرلیں، لیکن کیا صارفین اور خریدار دوبارہ پہلے کی طرح امریکی شراب پر اعتماد کریں گے؟

کینیڈین حکومت نے صوبوں سے پابندیاں ختم کرنے پر غور کرنے کو کہا

کینیڈا کے بیشتر صوبوں نے گزشتہ سال امریکی مصنوعات پر تجارتی ردعمل کے طور پر امریکی شراب اور دیگر الکوحل مصنوعات کی تقسیم روک دی تھی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر محصولات عائد کیے تھے۔

اب کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ امریکی الکوحل مصنوعات کی فروخت بحال کرنے کے معاملے پر دوبارہ غور کریں۔ اس اقدام کا مقصد امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت اور کینیڈین مصنوعات پر ممکنہ مزید امریکی محصولات سے بچنے کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

 امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ کا اثر ، گروسری سمیت دیگر اشیا مہنگائی ہونے کا مکان

کینیڈا کے بعض صوبائی وزرائے اعلیٰ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر مجوزہ تجارتی معاہدہ ملک اور ان کے صوبے کے مفادات کے لیے مثبت ثابت ہوا تو وہ امریکی شراب کی فروخت بحال کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ تاہم کچھ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے تک کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا جا سکتا۔

صوبائی قیادت میں بھی اختلافات

امریکی شراب کی دوبارہ فروخت کے معاملے پر کینیڈا کے صوبوں میں مکمل اتفاق رائے نظر نہیں آ رہا۔ بعض صوبائی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ شراب کی پابندی امریکا کے خلاف ایک مؤثر تجارتی دباؤ ہے اور اسے مذاکرات کے اختتام سے قبل ختم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

مینی ٹوبا کے وزیر اعلیٰ وب کینیو نے بھی امریکی تجارتی پالیسی پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو دباؤ میں آکر اپنے اہم تجارتی ذرائع ختم نہیں کرنے چاہئیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر مجموعی تجارتی معاہدہ کینیڈا کے مفاد میں ہو تو امریکی الکوحل مصنوعات کی فروخت بحال کرنے کے مطالبے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

اس بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کینیڈا شراب کی پابندی ختم کر دیتا ہے تو کیا امریکا بھی مستقبل میں کینیڈا پر دوبارہ تجارتی دباؤ نہیں ڈالے گا؟ بعض صوبائی رہنما اسی خدشے کے باعث محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی شراب کی واپسی کے باوجود صارفین کا رویہ اہم ہوگا

امریکی شراب سازوں کے لیے حکومتوں کے درمیان معاہدہ ایک اہم قدم ضرور ہوگا، لیکن ان کے کاروبار کی مکمل بحالی کا انحصار کینیڈین صارفین کے رویے پر بھی ہوگا۔

حالیہ رائے شماری کے مطابق بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں نے کہا ہے کہ اگر امریکی شراب دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہو جائے تو وہ اسے خریدنے کے بجائے کینیڈا کی مقامی مصنوعات کو ترجیح دیں گے۔ ایک حالیہ سروے میں تقریباً 69 فیصد افراد نے کہا کہ امریکی شراب کی واپسی کے باوجود وہ اس کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس دوران بہت سے صارفین نے کینیڈین شراب اور دیگر مقامی مشروبات کے نئے برانڈز دریافت کیے ہیں۔ اس لیے امریکی مصنوعات کی واپسی کے باوجود سابقہ مارکیٹ شیئر فوری طور پر بحال ہونا یقینی نہیں۔

بعض امریکی برانڈز نے پیداوار کینیڈا منتقل کردی

تجارتی تنازع کے اثرات سے بچنے کے لیے بعض امریکی کمپنیوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ امریکا میں قائم ایک معروف ڈسٹلری کمپنی نے اپنے مقبول مشروب کی پیداوار منی سوٹا سے مونٹریال منتقل کرنے کے لیے طویل مدتی معاہدہ کیا۔

مزید پڑھیں :

امریکہ کی جانب سے ممکنہ تجارتی دباؤ،کینیڈا میں جبری مشقت کے خلاف نئی قانون سازی کی تیاری

کمپنی کے مطابق اس مشروب کی فروخت کا تقریباً 98 فیصد حصہ کینیڈا میں ہے، اسی لیے کمپنی اب اسے بڑی حد تک کینیڈین برانڈ کے طور پر دیکھتی ہے۔ پیداوار کو کینیڈا منتقل کرنے کا فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ تجارتی پابندیاں کس طرح کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین، پیداواری مقامات اور مارکیٹنگ کی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

امریکی شراب کی کینیڈا کو برآمدات میں نمایاں کمی

تجارتی اعداد و شمار امریکی شراب کی صنعت پر پڑنے والے اثرات کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 کے درمیان امریکا سے کینیڈا کو شراب کی برآمدات میں تقریباً 34 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کی کمی ہوئی۔

یہ کمی ایک سال کے دوران تقریباً 77 فیصد بنتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کینیڈین مارکیٹ سے امریکی شراب کے اخراج نے امریکی پیدا کنندگان کے کاروبار کو کس قدر متاثر کیا ہے۔ کینیڈا اس سے قبل امریکی شراب سازوں کے لیے سب سے اہم بیرونی منڈیوں میں شمار ہوتا تھا۔

اسی طرح امریکی ڈسٹلڈ اسپرٹس کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی۔ متعلقہ صنعتی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق ایک مخصوص مدت کے دوران کینیڈا کو امریکی بوربن کی برآمدات میں تقریباً 60 فیصد کمی ہوئی۔

صنعت کو طویل مدتی استحکام کی ضرورت

اوریگن کے شراب سازوں کی نمائندہ صنعتی تنظیم نے کہا ہے کہ امریکی شراب پیدا کرنے والے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کی امید رکھتے ہیں، تاہم ان کے لیے صرف پابندیوں کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا۔

صنعتی نمائندوں کے مطابق بین الاقوامی تجارتی تعلقات قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ شراب ساز اپنے برانڈز کو متعارف کرانے، خریداروں کا اعتماد حاصل کرنے، تقسیم کا نظام قائم کرنے اور مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے طویل عرصے تک سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر سیاسی یا تجارتی تنازع کے باعث یہ تعلقات اچانک ختم ہوجائیں تو انہیں دوبارہ قائم کرنے میں بھی طویل وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی کاروبار اب تحریری یقین دہانی کے منتظر

بل ایسٹن جیسے شراب ساز اب محض سیاسی بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کسی معاہدے کی شرائط واضح اور تحریری شکل میں سامنے نہیں آتیں، وہ امریکی شراب کی کینیڈین مارکیٹ میں واپسی کے بارے میں زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنا چاہتے۔

ان کے لیے بنیادی خواہش یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت دوبارہ کسی مستحکم اور قابلِ پیش گوئی نظام کے تحت شروع ہو۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں کہ اگر پابندیاں ختم بھی ہوجائیں تو مارکیٹ پہلے جیسی شکل اختیار کرنے میں کتنا وقت لے گی۔

کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں شراب کی پابندی بظاہر ایک محدود شعبے کا معاملہ ہے، لیکن اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ بڑے تجارتی تنازعات کے اثرات کس طرح چھوٹے کاروباروں، کسانوں، شراب سازوں، ڈسٹلرز اور عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک اگر کسی مستقل تجارتی حل تک پہنچتے ہیں تو امریکی شراب سازوں کو امید ہے کہ انہیں دوبارہ کینیڈین مارکیٹ تک رسائی ملے گی، لیکن اعتماد کی بحالی اور صارفین کو دوبارہ متوجہ کرنا ایک الگ اور زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔

ہمیں فالو کریں