کارنی کا بل C-39، کینیڈا کو تیزی سے تعمیر کرنے کی کوشش یا اختیارات کا نیا توازن؟

اردووورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی سیاست میں پارلیمنٹ کے خزاں اجلاس کا آغاز ایک ایسے قانون سے ہوا ہے جو بظاہر بڑے منصوبوں کی منظوری تیز کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے اثرات صرف سڑکوں، بندرگاہوں، کانوں یا توانائی کے منصوبوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کا Building Canada Strong Act، بل C-39 دراصل اس وسیع معاشی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے اوٹاوا امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے ماحول میں ملکی سرمایہ کاری اور پیداوار کو تیز کرنا چاہتا ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

کینیڈا میں بڑے منصوبوں کے لیے وفاقی منظوری کا عمل طویل عرصے سے کاروباری حلقوں کی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف اداروں کے جائزے، اجازت نامے، ماحولیاتی تقاضے اور دیگر مراحل بعض منصوبوں کو کئی سال تک آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔

کارنی حکومت نے اسی مسئلے کو اپنی معاشی پالیسی کے مرکز میں رکھا ہے۔ بل C-39 میں بنیادی تصور ایک منصوبہ، ایک جائزہ، ایک سال ہے۔ یعنی جب منصوبہ پیش کرنے والا ادارہ مکمل درخواست، ضروری معلومات اور مطالعات فراہم کردے تو وفاقی جائزہ اور فیصلہ ایک سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف ہوگا۔

یہ صرف بیوروکریسی کی اصلاح نہیں

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کی اصل ترجیح صرف سرکاری فائلوں کو تیزی سے چلانا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے فیصلوں میں غیر یقینی کم کرنا ہے۔

امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع اور محصولات کے دباؤ کے دوران کینیڈا کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ وہ اپنی قدرتی دولت اور انفراسٹرکچر کی صلاحیت کو کتنی تیزی سے معاشی سرگرمی میں تبدیل کرسکتا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سرمایہ کار کو برسوں تک منظوری کا انتظار کرنا پڑے تو سرمایہ دوسرے ملکوں کا رخ کرسکتا ہے۔

اسی لیے بل میں توانائی، پائپ لائنز، بین الصوبائی بجلی کی لائنوں، بندرگاہوں اور دیگر اہم منصوبوں کے لیے زیادہ مربوط منظوری کا نظام تجویز کیا گیا ہے۔

لیکن تیزی کی قیمت کیا ہوگی؟

یہ وہ سوال ہے جو حکومت کے دعوے سے آگے نکلتا ہے۔منصوبوں کی منظوری تیز کرنا معاشی اعتبار سے سرمایہ کاری کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، لیکن بڑے منصوبے صرف اقتصادی فیصلے نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ ماحول، مقامی آبادیوں، Indigenous حقوق اور عوامی مشاورت کے معاملات بھی جڑے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کارنی حکومت کا بڑے منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ، بل C-39 پارلیمنٹ میں پیش

حکومت کا کہنا ہے کہ ایک سال کی مدت کا مطلب ماحولیاتی معیار ختم کرنا نہیں، بلکہ مختلف جائزوں کو ایک دوسرے کے بعد کرنے کے بجائے زیادہ مربوط انداز میں مکمل کرنا ہے۔ حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ Indigenous Peoples سے مشاورت اور قانونی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے عرصے میں اصل امتحان ٹائم لائن نہیں بلکہ ٹائم لائن اور نگرانی کے معیار میں توازن ہوگا۔

مزدور قوانین نے معاملہ پیچیدہ کردیا

بل C-39 کا دوسرا اہم حصہ لیبر قوانین میں تبدیلی ہے، اور یہی حصہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر زیادہ حساس بن گیا ہے۔

مجوزہ نظام میں حکومت ایسے تنازعات میں مداخلت کے لیے زیادہ واضح اصول بنانا چاہتی ہے جو قومی مفاد کو متاثر کرسکتے ہوں۔ نئے طریقہ کار میں ثالثی اور تنازع کے اثرات کا جائزہ شامل کیا جائے گا، جس کے بعد وزیر مخصوص حالات میں کارروائی کرسکے گا۔ وفاقی حکومت کے مطابق تقریباً 95 فیصد لیبر تنازعات کام بند کیے بغیر حل ہوجاتے ہیں، اس لیے توجہ باقی مشکل تنازعات کے لیے اضافی طریقہ کار بنانے پر ہے۔

یہاں حکومت کا مؤقف اور یونینز کا اعتراض ایک دوسرے کے بالکل مختلف رخ دکھاتے ہیں۔ حکومت اسے شفافیت اور آخری حل کا طریقہ قرار دیتی ہے، جبکہ مزدور تنظیمیں اسے ہڑتال کے حق پر ممکنہ دباؤ سمجھتی ہیں۔

کارنی کی معاشی سوچ کا امتحان

بل C-39 کو کارنی حکومت کی وسیع تر معاشی سوچ سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہے۔ حکومت کا پیغام واضح ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں کینیڈا کو صرف تجارتی مذاکرات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے اندر تعمیر، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات اور تجارتی راستوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔

لیکن یہی حکمت عملی ایک سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے: اگر حکومت کو تیزی سے تعمیر کرنا ہے تو کیا اس کے لیے وفاقی اختیارات میں اضافہ ضروری ہوگا؟

بل کی مخالفت کرنے والے حلقے اسی نکتے کو اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکومت اسے معاشی ضرورت کے طور پر پیش کررہی ہے۔

اکثریت حکومت کے لیے راستہ آسان کرتی ہے

کارنی حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت موجود ہے، اس لیے قانون سازی کو آگے بڑھانے کی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہے۔ تاہم سیاسی بحث ختم نہیں ہوگی، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں ماحولیاتی تحفظ، مزدور حقوق، مہنگائی، امریکا کے ساتھ تجارت اور بڑے منصوبوں کے اثرات کو پارلیمنٹ میں اٹھاتی رہیں گی۔

اصل نتیجہ یہ ہوگا کہ آیا حکومت ایک سال کی منظوری کا وعدہ عملی طور پر پورا کرپاتی ہے اور ساتھ ہی یہ اعتماد بھی برقرار رکھتی ہے کہ تیزی کا مطلب نگرانی میں کمی نہیں۔

بل C-39 کو محض ایک انتظامی اصلاح سمجھنا اس کی اہمیت کو محدود کردے گا۔ یہ کارنی حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے جس میں سست منظوری، تجارتی دباؤ اور سرمایہ کاری کی غیر یقینی کو ایک ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اگر منصوبوں کی منظوری واقعی تیز ہوتی ہے تو اس سے سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو رفتار مل سکتی ہے۔ لیکن اگر رفتار کے ساتھ ماحولیاتی، مقامی اور مزدور حقوق سے متعلق اعتماد متاثر ہوا تو یہی قانون سیاسی تنازع کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔

اسی لیے آنے والے مہینوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ بل C-39 کتنا بڑا ہے بلکہ یہ ہوگا کہ کارنی حکومت اپنے وعدے کے مطابق کینیڈا کو تیزی سے تعمیر کرتے ہوئے مختلف مفادات کے درمیان توازن کس طرح قائم کرتی ہے۔

ہمیں فالو کریں