اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں طویل عرصے سے زیر بحث گرین لائن ایل آر ٹی کے ڈاؤن ٹاؤن روٹ پر بالآخر فیصلہ ہوگیا ہے۔ کیلگری سٹی کونسل نے گرین لائن کے ڈاؤن ٹاؤن حصے کو سڑک کی سطح پر تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ٹرین 10 ایونیو ایس ڈبلیو اور 2 اسٹریٹ ایس ڈبلیو کے راستے سے گزرے گی۔
کونسل نے منگل کو ہونے والے اجلاس میں اس منصوبے کے حق میں 12 ووٹ دیے جبکہ 2 ارکان نے مخالفت کی۔ یوں برسوں سے جاری بحث کے بعد گرین لائن کے ڈاؤن ٹاؤن حصے کے لیے ایک حتمی سمت سامنے آگئی ہے۔
برسوں سے جاری تنازع
گرین لائن کیلگری کے بڑے ٹرانزٹ منصوبوں میں شامل ہے، لیکن خاص طور پر ڈاؤن ٹاؤن حصے کا راستہ طویل عرصے سے اختلاف کا باعث رہا ہے۔
ماضی میں زیر زمین ٹنل سمیت مختلف راستوں پر غور کیا گیا۔ بعد میں لاگت، منصوبے کے دائرہ کار اور صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈنگ سے متعلق تحفظات کے باعث روٹ میں کئی مرتبہ تبدیلیاں ہوئیں۔ اب سٹی کونسل نے سطحی راستے کو حتمی شکل دے دی ہے۔شہر کے مطابق موجودہ فیصلے کے بعد منصوبے کی ڈیزائننگ، منصوبہ بندی اور خریداری کے مراحل آگے بڑھ سکیں گے۔
ٹرین کہاں تک جائے گی؟
منظور شدہ روٹ ایونٹ سینٹر اور گرینڈ سینٹرل اسٹیشن سے شروع ہوکر 10 ایونیو کے ساتھ سڑک کی سطح پر آگے بڑھے گا اور 2 اسٹریٹ ایس ڈبلیو کے قریب نئے اسٹیشن پر ختم ہوگا۔
مسافروں کو ڈاؤن ٹاؤن کے مرکزی حصے تک پہنچنے کے لیے Plus 15 نیٹ ورک سے پیدل رابطہ فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موجودہ ریڈ اور بلیو لائنز سمیت دیگر ٹرانزٹ سروسز تک رسائی کے لیے پیدل رابطوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
زیر زمین کے بجائے سطحی روٹ کیوں؟
اس فیصلے کے پیچھے سب سے اہم عوامل میں لاگت اور منصوبے کو عملی طور پر آگے بڑھانا شامل ہیں۔شہر کے حکام کے مطابق سڑک کی سطح پر روٹ موجودہ بجٹ کے اندر رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ پہلے زیر بحث آنے والے بعض آپشنز میں اخراجات اور تعمیراتی پیچیدگیاں زیادہ تھیں۔
گرین لائن کے منصوبے میں پہلے ہی لاگت میں اضافے اور فنڈنگ کے حوالے سے کئی مراحل دیکھے جاچکے ہیں۔ اسی وجہ سے موجودہ روٹ کا انتخاب صرف ٹرانزٹ کا فیصلہ نہیں بلکہ مالی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔
صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا کردار
گرین لائن کا معاملہ صرف کیلگری سٹی کونسل تک محدود نہیں رہا۔ اس منصوبے میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی فنڈنگ بھی اہم رہی ہے۔
کیلگری کے میئر جیرومی فارکس نے کہا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں منتخب کیے گئے روٹ کی حمایت کے لیے تیار ہیں، جبکہ ان کے مطابق موجودہ راستہ وہ منصوبہ ہے جسے شہر مالی طور پر تعمیر کرسکتا ہے۔
اس پس منظر میں کونسل کے فیصلے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس سے طویل عرصے سے جاری غیر یقینی صورتحال ختم کرکے منصوبے کو عملی مرحلے میں لے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :یورپی سرمایہ کاری بینک کا کینیڈا میں سرمایہ کاری کا عندیہ، کارنی کی یورپی یونین سے قربت بڑھانے کی کوششیں تیز
کاروباری طبقے کے خدشات
تاہم منصوبے کی منظوری کے ساتھ ہی ڈاؤن ٹاؤن کے بعض کاروباروں کے لیے نئی تشویش بھی سامنے آئی ہے۔10 ایونیو ایس ڈبلیو کے اطراف کاروبار کرنے والے مالکان کو خدشہ ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران کئی سال تک سڑک، پیدل راستوں اور کاروباری رسائی میں تبدیلیاں ان کی آمدنی کو متاثر کرسکتی ہیں۔
خاص طور پر 10 ایونیو اور 1 اسٹریٹ ایس ڈبلیو کے قریب موجود کاروباروں نے تعمیراتی اثرات پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ بعض کاروباری اداروں نے اس صورتحال پر طنزیہ انداز میں اپنی تشہیری مہم بھی شروع کی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ منصوبے کی تعمیراتی مدت کاروباری حلقوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
کونسل کے اندر بھی اختلاف
کونسل میں فیصلہ اگرچہ واضح اکثریت سے ہوا، لیکن تمام ارکان اس پر متفق نہیں تھے۔کونسلر جینیفر وائنِس اور راج ڈھالیوال نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ وائنِس نے اس انتخاب کو دستیاب راستوں میں کم نقصان دہ آپشن قرار دیتے ہوئے منصوبے کی مالی ذمہ داری اور صوبائی و وفاقی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے۔ان کا مؤقف تھا کہ اگر مستقبل میں لاگت بڑھی تو اس کا بوجھ کیلگری کے شہریوں پر پڑ سکتا ہے۔
منصوبہ اب کس مرحلے میں جائے گا؟
کونسل کی منظوری کے بعد اب منصوبے کا اگلا مرحلہ تفصیلی ڈیزائن، منصوبہ بندی اور تعمیر کی تیاری ہے۔ شہر نے واضح کیا ہے کہ 10 ایونیو کے ساتھ جائیداد اور کاروباری مالکان سے مزید مشاورت کی جائے گی۔منصوبے میں سڑک کی سطح پر ایل آر ٹی چلنے کے باعث ٹریفک، پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور کاروباری رسائی کو بھی ڈیزائن کے دوران مدنظر رکھا جائے گا۔
شہر کے مطابق گرین لائن کا جنوب مشرقی حصہ پہلے ہی زیر تعمیر ہے اور ڈاؤن ٹاؤن حصے کی منظوری سے پہلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری فیصلہ مکمل ہوگیا ہے۔ مجموعی طور پر گرین لائن کا طویل مدتی تصور 46 کلومیٹر کے ٹرانزٹ نیٹ ورک سے متعلق ہے، جبکہ موجودہ تعمیراتی مرحلہ اس بڑے منصوبے کا بنیادی حصہ ہے۔
فیصلہ آسان نہیں تھا
گرین لائن کے ڈاؤن ٹاؤن روٹ کا فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ٹرین کے راستے کا تعین نہیں کرتا بلکہ آنے والے برسوں میں ڈاؤن ٹاؤن کیلگری کی ٹریفک، کاروبار، پیدل رابطوں اور شہری ترقی پر بھی اثر ڈالے گا۔
سطحی روٹ سے منصوبے کو موجودہ بجٹ کے اندر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن تعمیراتی مرحلے کے دوران کاروباری اداروں اور شہریوں کو عارضی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اب اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ شہر اس روٹ کو کس رفتار سے تعمیراتی مرحلے تک لے جاتا ہے، کاروباری مالکان کے خدشات کس حد تک دور کیے جاتے ہیں اور تعمیر کے دوران ڈاؤن ٹاؤن کی ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں کو کس طرح برقرار رکھا جاتا ہے۔
کیلگری سٹی کونسل کا فیصلہ گرین لائن کے لیے برسوں کی بحث کے بعد ایک اہم موڑ ضرور ہے، لیکن منصوبے کی کامیابی کا اگلا امتحان منظوری نہیں بلکہ تعمیر اور عملی تکمیل ہوگی۔
