اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یورپی یونین کے یورپی انویسٹمنٹ بینک کی صدر نادیہ کالوینو نے کہا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تعاون مزید گہرا کرنے اور ملک میں مختلف منصوبوں کی مالی معاونت کے امکانات تلاش کرنے کے لیے وقت سازگار ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
کینیڈا میں نئی سرمایہ کاری
یورپی انویسٹمنٹ بینک کی صدر نادیہ کالوینو نے کینیڈین میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ بینک اب تک کینیڈا میں زیادہ فعال نہیں رہا، تاہم موجودہ حالات دونوں فریقوں کے درمیان تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
کالوینو ان دنوں کینیڈا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ وفاقی حکومت کے مختلف وزرا سے ملاقاتیں کررہی ہیں۔ ان کے مطابق ان کا کینیڈا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ اپنے بیانات کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرنے کے لیے تیار ہے۔
اہم شعبہ: اہم معدنیات
کالوینو کے مطابق کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ اہم معدنیات یا کریٹیکل منرلز ہوسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک ایسے فریم ورک معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے جس کے ذریعے بینک کینیڈا کے اہم معدنیات سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکے۔ان کے مطابق تعاون صرف معدنیات تک محدود رہنے کی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل میں دیگر شعبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔
کارنی کے وژن سے مماثلت
نادیہ کالوینو نے وزیراعظم مارک کارنی کے اس مؤقف کی حمایت کی جس میں وہ کینیڈا اور یورپ کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد اور تعاون پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق ایک جیسی زبان بولتے ہیں اور ان کی اقدار بھی مشترک ہیں۔ ان کے مطابق اسی مشترکہ بنیاد کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
کالوینو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک ایک عملی ادارہ ہے جو منصوبوں میں سرمایہ لگاتا ہے، ان کی معاونت کرتا ہے اور انہیں عملی شکل دینے میں کردار ادا کرتا ہے۔
سبز توانائی پر توجہ
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یورپی انویسٹمنٹ بینک مستقبل میں کینیڈا میں تیل یا مائع قدرتی گیس کی نئی پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے تو کالوینو نے بینک کی ماحولیاتی پالیسی کی طرف اشارہ کیا۔
ان کے مطابق یورپی انویسٹمنٹ بینک نے خود کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالی معاونت کرنے والے بینک کے طور پر مضبوط کیا ہے اور اب اس کی زیادہ دلچسپی نئی ٹیکنالوجیز اور گرین انرجی کی پیداوار میں ہے۔
اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا اور یورپ کے درمیان ممکنہ سرمایہ کاری میں صاف توانائی اور نئی ٹیکنالوجیز کو خاص اہمیت حاصل ہوسکتی ہے۔
کارنی کی یورپی حکمت عملی
یورپی انویسٹمنٹ بینک کا یہ بیان وزیراعظم کارنی کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
کارنی نے حال ہی میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا اور یورپ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ ان کے ایجنڈے میں غیر زرعی اشیا اور خدمات کی تجارت کو زیادہ آسان اور ڈیجیٹل بنانے، کمپیوٹنگ کی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت کے تحفظ کے حوالے سے تعاون، جبکہ مالیاتی خدمات کے لیے مربوط مارکیٹ کے امکانات تلاش کرنا شامل ہیں۔
500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
کارنی حکومت کے مطابق حالیہ کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ نے کینیڈین کاروبار اور انفراسٹرکچر میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا کیے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کا مقصد کینیڈا میں کاروباری سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے اور اسٹریٹجک شعبوں کو مضبوط بنانا ہے۔
’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ کی بحث
کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ممکنہ ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بنانے کا دروازہ کھولنے کا عندیہ دیا۔
تاہم ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ یورپی یونین کی موجودہ قانونی رکنیت کی کوئی باقاعدہ قسم نہیں ہے، جس کے باعث اس ممکنہ شراکت کی تفصیلات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :66 بینک کارڈز، کروڑوں کی رقم اور خفیہ نیٹ ورک، کینیڈا میں آن لائن منشیات کے بڑے کاروبار کا انکشاف
کالوینو نے کہا کہ وہ اس بحث میں نام، طریقہ کار اور رسمی مراحل پر زیادہ وقت ضائع کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔
یورپی بجٹ میں براہ راست رقم نہیں
کینیڈا کے یورپی یونین کے لیے نامزد سفیر جوناتھن ولکنسن پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ کینیڈا یورپی یونین کے 27 ممالک پر مشتمل بلاک کے بجٹ میں براہ راست رقم ادا نہیں کرے گا۔
ان کے مطابق تعاون کا مرکز ایسے اسٹریٹجک شعبے ہوسکتے ہیں جہاں ممالک کو ضروری صلاحیتوں اور وسائل تک رسائی درکار ہے تاکہ وہ اپنے خودمختار فیصلے کرسکیں۔
یورپی پارلیمنٹ کے رکن کی حمایت
لٹویا سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمنٹ کے رکن رِہارڈز کولز نے بھی کارنی کی یورپ کے ساتھ قربت بڑھانے کی پالیسی کو موجودہ عالمی حالات میں اہم قرار دیا۔
ان کے مطابق دنیا بھر میں جمہوری ممالک کو باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور جمہوری ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
تاہم کولز نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کینیڈا کے دیگر سیاسی رہنما یورپی یونین کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور مستقبل میں کینیڈا اور یورپ کے درمیان شراکت داری کس سمت جائے گی۔
یوں کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات اب صرف سیاسی روابط تک محدود نہیں رہے بلکہ اہم معدنیات، توانائی، مصنوعی ذہانت، مالیاتی خدمات اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں عملی تعاون کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
