کیا ایٹمی دھماکا زمین کو تباہ کن شہابِ ثاقب سے بچا سکتا ہے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مستقبل میں کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین کی جانب بڑھ رہا ہو اور اس کے راستے میں کوئی بڑا شہر یا آبادی موجود ہو تو انسانیت اسے روکنے کے لیے کیا کرسکتی ہے؟ یہ سوال طویل عرصے سے ماہرین فلکیات اور خلائی سائنس دانوں کے لیے اہم رہا ہے۔

اب نئی کمپیوٹر سمولیشنز نے اس بحث کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے کہ انتہائی خطرناک سیارچے کو تباہ یا اس کا راستہ تبدیل کرنے کے لیے ایٹمی دھماکے کو آخری دفاعی آپشن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

امریکی لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنس دان آئزیا سینٹی سٹیون اور ان کی ٹیم نے سپر کمپیوٹرز کی مدد سے ایک ایسے سیارچے کا ماڈل تیار کیا جس کا قطر تقریباً 160 میٹر تھا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اگر ایسا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو ایک میگا ٹن طاقت کے ایٹمی دھماکے سے اس پر کس حد تک اثر ڈالا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

پاکستان کی ٹیکنالوجی نمائش میں شرکت، وینکوور عالمی ایونٹ میں جدید آئی ٹی مصنوعات پیش

یہ حجم بظاہر بہت بڑا محسوس نہیں ہوتا، لیکن ماہرین کے مطابق تقریباً فٹ بال کے میدان کے برابر چوڑائی رکھنے والا سیارچہ اگر زمین سے ٹکرائے تو کسی بڑے شہر میں انتہائی وسیع پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے اجرامِ فلکی کی بروقت شناخت اور ان سے نمٹنے کے طریقے سیاروی دفاع کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

ایٹمی دھماکے کا مقصد صرف سیارچے کو پھاڑنا نہیں

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کسی خطرناک سیارچے کو ایٹمی دھماکے سے مکمل طور پر تباہ کرنا ہی مقصد ہوگا، لیکن نئی تحقیق اس سے زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ سائنس دانوں نے جائزہ لیا کہ دھماکے سے پیدا ہونے والی توانائی سیارچے کی سطح پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے اور کیا اس کے ذریعے سیارچے کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے زمین سے ٹکرانے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دھماکے کو سیارچے کے اندر پہنچانا ضروری نہیں۔ اگر دھماکا اس کی سطح سے کچھ فاصلے پر بھی کیا جائے تو اس سے پیدا ہونے والی انتہائی شدید توانائی سیارچے کی سطح کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس عمل میں ایٹمی دھماکے سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ یہ توانائی سیارچے کی بیرونی سطح کو انتہائی تیزی سے گرم کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں سطحی مادے کا کچھ حصہ بخارات میں تبدیل ہوکر تیزی سے باہر کی جانب خارج ہوسکتا ہے۔ مادے کے اس اخراج سے سیارچے کی حرکت متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

سطحی مادے کے اخراج سے راستہ بدلنے کا امکان

سیارچے کی سطح سے مادے کا تیزی سے باہر نکلنا ایک طرح کا ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔ اگر یہ عمل مناسب وقت اور زاویے پر ہو تو سیارچے کی رفتار یا سمت میں معمولی تبدیلی بھی طویل فاصلے کے سفر کے دوران نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

خلائی فاصلے میں کسی سیارچے کے راستے میں معمولی تبدیلی بھی بہت اہم ہوسکتی ہے۔ اگر کسی بڑے سیارچے کو زمین سے لاکھوں یا کروڑوں کلومیٹر دور اس کے راستے سے تھوڑا سا ہٹا دیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کا راستہ اتنا تبدیل ہوسکتا ہے کہ وہ زمین کے بجائے کسی اور سمت سے گزر جائے۔

اسی اصول کی وجہ سے سیاروی دفاع میں ہمیشہ یہ ضروری نہیں کہ کسی سیارچے کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے۔ بعض حالات میں اسے صرف اتنا منحرف کرنا کافی ہوسکتا ہے کہ وہ زمین سے نہ ٹکرائے۔

10 میٹر کے فاصلے پر دھماکے کا نتیجہ

تحقیقاتی ٹیم نے مختلف حالات میں کمپیوٹر سمولیشنز چلائیں۔ پہلے ماڈل میں ایک میگا ٹن کے ایٹمی دھماکے کو سیارچے کی سطح سے تقریباً 10 میٹر کے فاصلے پر فرض کیا گیا۔

سمولیشن کے نتائج کے مطابق اس صورت میں سیارچے کا تقریباً 98 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا اور اس کا بڑا حصہ الگ ہوکر مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔ یہ نتیجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مناسب حالات میں انتہائی طاقتور دھماکہ کسی بڑے سیارچے کو بڑی حد تک ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں:

اے آئی ٹیکنالوجی والے کھلونے بچوں کے لیے کتنے محفوظ ہیں؟ نئی تحقیق

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا سیارچے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا خود بخود زمین کے لیے خطرہ ختم کردے گا؟

ضروری نہیں۔

اگر سیارچے کے ٹکڑے مناسب فاصلے اور سمت میں منتشر ہوجائیں تو خطرہ کم ہوسکتا ہے، لیکن اگر بڑے ٹکڑے زمین کی جانب ہی بڑھتے رہیں تو مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔

25 میٹر کے فاصلے پر بھی دلچسپ نتائج

دوسری سمولیشن میں دھماکے اور سیارچے کے درمیان فاصلہ بڑھا کر 25 میٹر کردیا گیا۔ بظاہر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ زیادہ فاصلے کی وجہ سے دھماکے کا اثر کم ہوجائے گا، لیکن تحقیق کے نتائج میں ایک دلچسپ پہلو سامنے آیا۔

ماڈل کے مطابق ایکس رے شعاعوں نے نسبتاً وسیع علاقے کو متاثر کیا اور ابتدائی مرحلے میں سیارچے کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ دھماکے کی توانائی صرف ایک مخصوص نقطے پر اثر انداز ہونے کے بجائے سیارچے کی سطح کے وسیع حصے تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ نتائج اس شعبے میں مزید تحقیق کے لیے اہم سمجھے جارہے ہیں، تاہم انہیں کسی حقیقی خلائی مشن کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔

سپر کمپیوٹرز کو 59 دن تک چلانا پڑا

اس تحقیق کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سمولیشن کے ایک انتہائی مختصر حصے کا حساب لگانے کے لیے 1680 کمپیوٹر پروسیسرز کو مسلسل تقریباً 59 دن تک چلایا گیا۔

یہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ سیارچے پر ایٹمی دھماکے کے ابتدائی اثرات انتہائی کم وقت میں رونما ہوتے ہیں۔ سطح کے گرم ہونے، مادے کے بخارات بننے، جھٹکے کے اندرونی حصے تک پہنچنے اور چٹان کے ٹوٹنے جیسے متعدد عمل بیک وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

صرف ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے تک ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے بھی بڑی مقدار میں کمپیوٹیشنل طاقت درکار تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاروی دفاع کے مسئلے میں صرف دھماکے کی طاقت جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کے بعد ہونے والے پیچیدہ طبعی عمل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

اصل مسئلہ دھماکے کے بعد شروع ہوتا ہے

تحقیق کے سب سے اہم سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر سیارچہ ٹوٹ جائے تو اس کے ٹکڑوں کے ساتھ کیا ہوگا۔

ممکن ہے کہ ٹکڑے مختلف سمتوں میں اتنی تیزی سے پھیل جائیں کہ زمین سے ٹکرانے کا خطرہ بہت کم ہوجائے۔ لیکن دوسری جانب یہ امکان بھی موجود ہے کہ بڑے ٹکڑے اپنی رفتار برقرار رکھتے ہوئے زمین کی جانب بڑھتے رہیں۔

اسی طرح خلائی اجسام ایک دوسرے کی کششِ ثقل سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ٹکڑوں کی رفتار اور سمت تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس لیے صرف ابتدائی لمحوں میں یہ دیکھ لینا کہ سیارچہ ٹوٹ گیا ہے، کافی نہیں ہوگا۔

ماہرین کے لیے اصل چیلنج یہ جاننا ہے کہ دھماکے کے بعد پیدا ہونے والے ہر بڑے ٹکڑے کا طویل مدتی راستہ کیا ہوگا۔

ایٹمی دھماکا آخری حل کیوں سمجھا جاتا ہے؟

سیاروی دفاع میں ایٹمی دھماکے کا تصور نیا نہیں، لیکن اسے عام یا معمول کا حل نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بڑے سیارچے کو دھماکے سے توڑنے کے بعد پیدا ہونے والے ٹکڑوں کی سمت، رفتار اور حجم پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔

اگر ایک بڑا سیارچہ متعدد خطرناک ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے اور ان میں سے کچھ زمین کی طرف بڑھتے رہیں تو ایک بڑے خطرے کو کئی چھوٹے مگر پھر بھی نقصان دہ خطرات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اسی لیے سائنس دان عام طور پر ایسے طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں سیارچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بجائے اس کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی جائے۔

سیاروی دفاع کے لیے وقت سب سے اہم عنصر

کسی بھی دفاعی حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ دستیاب وقت پر بھی ہوگا۔ اگر کسی بڑے سیارچے کی زمین سے ٹکرانے کی پیش گوئی کئی دہائیاں پہلے ہوجائے تو اس کے راستے میں معمولی تبدیلی بھی کافی ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر کسی خطرناک سیارچے کی شناخت زمین سے ٹکرانے سے کچھ ہی عرصہ پہلے ہو تو ماہرین کے پاس فیصلہ کرنے اور مشن بھیجنے کے لیے بہت کم وقت ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خلائی ادارے ایسے اجرامِ فلکی کی تلاش، نگرانی اور مدار کی پیش گوئی پر توجہ دے رہے ہیں۔

کیا واقعی ایٹمی دھماکا زمین کو بچا سکتا ہے؟

موجودہ تحقیق کا جواب یہ نہیں کہ ایٹمی دھماکا یقینی طور پر زمین کو کسی بھی خطرناک سیارچے سے بچا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے صرف یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مخصوص حالات میں ایک طاقتور دھماکہ سیارچے کی سطح کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور اسے بڑی حد تک ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتا ہے۔

اصل دنیا میں سیارچے کی ساخت، کثافت، شکل، رفتار، گردش، زمین سے فاصلہ اور دھماکے کا درست مقام جیسے عوامل نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس لیے موجودہ نتائج کو ایک ممکنہ دفاعی حکمت عملی کے سائنسی ماڈل کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا، نہ کہ کسی تیار شدہ عملی منصوبے کے طور پر۔

انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال

زمین کے لیے بڑے سیارچوں کا خطرہ اگرچہ روزمرہ زندگی میں فوری نوعیت کا مسئلہ نہیں، لیکن سائنسی اعتبار سے یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ میں بڑے اجرامِ فلکی کے زمین سے ٹکرانے کے شواہد موجود ہیں، اور ایک بڑے سیارچے کی مستقبل میں ممکنہ ٹکر کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

نئی تحقیق کم از کم یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ اگر کبھی ایسا خطرہ حقیقی شکل اختیار کرتا ہے تو انسانیت کے پاس کون سے ممکنہ راستے موجود ہوسکتے ہیں۔

ایٹمی دھماکہ شاید پہلا انتخاب نہ ہو، لیکن انتہائی ہنگامی صورتحال میں یہ ایک ممکنہ آخری آپشن ہوسکتا ہے۔ تاہم اصل کامیابی سیارچے کو تباہ کرنے میں نہیں بلکہ زمین کو محفوظ رکھنے میں ہے—اور اس کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار شاید تباہ کن طاقت نہیں بلکہ بروقت شناخت، مسلسل نگرانی اور کئی دہائیوں پہلے درست منصوبہ بندی ہو۔

ہمیں فالو کریں