چینی صدر کا امریکا میں غیر معمولی استقبال، 100 فٹ ریڈ کارپٹ، توپوں کی سلامی اور B-1 بمبار طیاروں کا فضائی مظاہرہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)چینی صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر امریکا پہنچ گئے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا غیر معمولی اور شاندار استقبال کیا۔ جوائنٹ بیس اینڈریوز پر چینی صدر کے استقبال کے لیے 100 فٹ طویل ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کیا۔

رن وے پر پرتپاک استقبال

شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کی ایئرپورٹ کے رن وے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں اور ان کی اہلیاؤں نے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔

تین رسمی دستے موجود

استقبالیہ تقریب کے لیے امریکی اور چینی پرچموں کے ساتھ تین رسمی فوجی دستے تعینات کیے گئے تھے۔ امریکی فضائیہ کے بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے پیش کیے جبکہ امریکی فوج کی مختلف سروسز سے تعلق رکھنے والے پلاٹونز بھی تقریب میں موجود تھے۔

توپوں کی سلامی

چینی صدر کی آمد پر توپوں کی بیٹری کی جانب سے رسمی سلامی بھی دی گئی۔ اس موقع پر جوائنٹ بیس اینڈریوز کے اوپر سے امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں نے پرواز کی۔

B-1 بمبار طیاروں کا مظاہرہ

B-1 ایک سپرسونک بمبار طیارہ ہے جو امریکی فضائیہ کے اہم جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ طویل فاصلے تک روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکی فوجی طاقت کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

تقریب کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں

استقبالیہ تقریب سے قبل وائٹ ہاؤس اور امریکی فوج نے پروگرام کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی تھیں۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق تقریب میں ریڈ کارپٹ، توپوں کی سلامی، دونوں ممالک کے پرچم، قومی ترانے اور فوجی دستوں کی شرکت شامل تھی۔

اہم معاملات پر بات چیت

تین روزہ دورے کے دوران ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متعدد اہم دوطرفہ اور عالمی معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔ ان میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات، ٹیرف، مصنوعی ذہانت، ایران میں جنگ اور تائیوان سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

تجارتی معاہدہ بھی اہم موضوع

امریکا اور چین کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والا تجارتی معاہدہ بھی نومبر میں ختم ہونے والا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹیرف کے معاملات مذاکرات میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چینی صدر اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن روانگی

استقبالیہ تقریب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ان کی گاڑی تک پہنچایا۔ دونوں رہنماؤں نے روانگی سے قبل مختصر گفتگو کی، جس کے بعد چینی صدر واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوگئے جبکہ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔

مزید ملاقاتیں متوقع

شی جن پنگ کے دورے کے دوران خوشگوار ملاقاتوں، بند کمرے میں مذاکرات اور سرکاری عشائیے سمیت مختلف تقریبات متوقع ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی فوج کی جانب سے دورے کے تمام پروگراموں کی حتمی ترتیب کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ہمیں فالو کریں