اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے روس پر مزید دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ کے اثرات اب اس کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس کے خلاف اقتصادی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھا جائے تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
جنگ ختم کرنے پر زور
زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کو ختم کرنا ضروری ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو موجودہ جنگ کا بنیادی محرک قرار دیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ روس کو جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔
یوکرینی صدر کے مطابق روس کو جنگ کے دوران بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود روسی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کو بروقت نہ روکا گیا اور روس کو جواب دہ نہ بنایا گیا تو اس کے اثرات مزید ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے مالدووا، پولینڈ اور بالٹک ریاستوں سمیت دیگر علاقوں کے لیے بھی خطرات کا ذکر کیا اور کہا کہ جنوبی قفقاز اور وسطی ایشیا میں بھی ممالک کی خودمختاری سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
زیلنسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ روس کو کارروائی کی جتنی زیادہ آزادی دی جائے گی، دوسرے ممالک کے لیے خطرات بھی اتنے ہی بڑھ سکتے ہیں۔
شمالی کوریا کا کردار
یوکرینی صدر نے روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا۔ان کے مطابق شمالی کوریا کے فوجی روس کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے ہیں اور انہیں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پیانگ یانگ کو اس تعاون کے بدلے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت فوجی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔زیلنسکی نے اس صورتحال کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ جنگ اب صرف روس اور یوکرین کے درمیان محدود نہیں رہی۔
روس پر مزید پابندیوں کا مطالبہ
زیلنسکی نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے، اس کے ساتھ تجارتی روابط محدود کرنے اور یوکرین کے لیے مسلسل دفاعی امداد جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جو ممالک روس کے ساتھ تجارت کے ذریعے اسے مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر جنگ جاری رکھنے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
میزائل اور ڈرون حملے
زیلنسکی کے مطابق رواں سال روس نے یوکرین کے خلاف ہزاروں میزائل اور دسیوں ہزار حملہ آور ڈرونز استعمال کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ روسی حملوں میں بیلسٹک میزائل اور جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونز بھی شامل ہیں۔
یوکرینی صدر کے مطابق ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین انٹرسیپٹر ڈرونز کی پیداوار بڑھا رہا ہے اور اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ فضائی دفاع کی نئی صلاحیتیں تیار کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :زیلنسکی نے کینیڈا اور امریکا کے تنازع کو ’خطرناک‘ قرار دے دیا، روس یوکرین جنگ سے موازنہ
دفاعی صنعت میں تعاون
زیلنسکی نے یوکرین کی دفاعی صنعت کو بھی عالمی تعاون کے ممکنہ شعبے کے طور پر پیش کیا۔انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور مربوط دفاعی نظام سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے۔
یوکرینی عوام کی جدوجہد
اپنے خطاب میں زیلنسکی نے جنگ سے متاثرہ یوکرینی عوام کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یوکرین نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا، تاہم یوکرینی شہری اپنے ملک، خاندان، آزادی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا خطرہ
زیلنسکی نے مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی خبردار کیا۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی آنے والی جنگوں کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری کو موجودہ تنازعات کے خاتمے کے لیے ابھی اقدامات کرنا ہوں گے، اس سے پہلے کہ جنگی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار مزید بڑھ جائے۔
پیوٹن پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ
زیلنسکی نے اپنے خطاب کے اختتام پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف مزید دباؤ بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روسی قیادت کی کارروائی کی گنجائش اور جنگ کے لیے دستیاب مالی وسائل کو محدود کرنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق زیلنسکی نے 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے جنگ ختم کرنے اور روس پر مزید دباؤ کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا۔
