اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی قومی پولیس فورس رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) کے کمشنر مائیک ڈوہیم نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں مبینہ کشیدگی کی خبروں کے بعد کہا ہے کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعلقات اب بھی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک قومی سلامتی سے متعلق خطرات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (CBC) کی 9/11 سے متعلق ایک اندرونی ہدایت پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ بعض تعاون روکنے کی کوشش کی۔
9/11 سے متعلق میمو
تنازع اس وقت شروع ہوا جب CBC کا ایک اندرونی میمو لیک ہوا، جس میں صحافیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو بیان کرتے ہوئے انہیں براہ راست ’’دہشت گرد حملے‘‘ قرار دینے سے گریز کیا جائے، جب تک اس حوالے سے مناسب نسبت یا حوالہ موجود نہ ہو۔
CBC کی طویل عرصے سے یہ ادارتی پالیسی رہی ہے کہ کسی مخصوص واقعے کو اپنی طرف سے دہشت گردی قرار دینے کے بجائے ضرورت پڑنے پر متعلقہ ذرائع یا حکام کی نسبت کے ساتھ ایسا کیا جائے۔
تاہم یہ ہدایت سامنے آنے کے بعد امریکا میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
کاش پٹیل کا سخت ردعمل
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پر CBC کی اس ہدایت پر سخت ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور امریکا میں ہونے والے سب سے بڑے دہشت گرد حملے میں جانیں گنوانے والوں کی توہین کرنے والے کسی بھی کینیڈین ادارے کے ساتھ ایف بی آئی کے تعلقات معمول کے مطابق نہیں رہیں گے۔پٹیل کے بیان نے معاملے کو محض ایک میڈیا ادارے کی ادارتی پالیسی کے بجائے کینیڈا اور امریکا کے سیکیورٹی تعلقات سے جوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں :جنگ نہیں چاہتے لیکن مزاحمت سےپیچھے نہیں ہٹیں گے ، ایران کا امریکہ کو دو ٹوک پیغام
CBC کی وضاحت
بین الاقوامی سطح پر ردعمل سامنے آنے کے بعد CBC کے جرنلسٹک اسٹینڈرڈز اینڈ پبلک ٹرسٹ کے سینئر ڈائریکٹر باسم بوشرا نے 28 اگست کو وضاحت جاری کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ 11 ستمبر کے تاریخی واقعات کو دہشت گردی قرار دینے کے لیے براہ راست نسبت لازمی نہیں ہے۔تاہم اس وضاحت کے باوجود معاملہ ختم نہیں ہوا اور امریکی اداروں کے ردعمل سے متعلق مزید دعوے سامنے آتے رہے۔
ایف بی آئی نے اجلاس منسوخ کیے؟
رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی کے بعض حکام نے اپنے کینیڈین ہم منصبوں کے ساتھ طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کردیں اور انہیں بتایا گیا کہ کچھ عرصے تک رابطہ محدود رہے گا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ 11 ستمبر کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر دونوں اداروں کے درمیان تعاون کی بعض سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔
اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور حساس پہلو کا اضافہ ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سرحدی سیکیورٹی، دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی اور دیگر قومی سلامتی کے معاملات پر طویل عرصے سے تعاون کرتی رہی ہیں۔
آر سی ایم پی کا محتاط مؤقف
آر سی ایم پی نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
تاہم کمشنر مائیک ڈوہیم نے واضح کیا کہ کینیڈا کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آر سی ایم پی امریکی ہم منصبوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتی ہے اور قومی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے میں ہے۔
ڈوہیم کے مطابق آر سی ایم پی کینیڈا کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتی ہے اور ملکی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کرتی ہے، جن میں فائیو آئیز اتحاد کے ارکان شامل ہیں۔
فائیو آئیز کا اہم کردار
کینیڈا کی قومی سلامتی کے لیے فائیو آئیز تعاون انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس اتحاد میں کینیڈا، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
کینیڈا انٹیلی جنس کے معاملے میں کئی شراکت داروں پر انحصار کرتا ہے، اس لیے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں کسی بڑے خلل کے ممکنہ اثرات اہم ہوسکتے ہیں۔
آر سی ایم پی اور ایف بی آئی کے درمیان طویل عرصے سے تعاون موجود ہے اور دونوں ادارے مشترکہ سرحد، دہشت گردی، منظم جرائم اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف معاملات پر رابطے میں رہتے ہیں۔
کینیڈین حکومت کا مؤقف
کینیڈا کے وزیرِ پبلک سیفٹی گیری آننداسنگاری کے ترجمان سائمن لافورٹون نے بھی امریکا کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت امریکا کے ساتھ دیرینہ قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی شراکت داری کو اہمیت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈین اور امریکی اداروں کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے اور حکومت امریکی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری اور احترام پر مبنی رابطہ جاری رکھے گی۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
ایف بی آئی نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آنے والے مخصوص دعووں پر براہ راست جواب نہیں دیا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے CBC کی ہدایت کو 9/11 حملوں کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ یہ حملے انتہائی سنگین دہشت گرد کارروائیاں تھیں۔
یوں ایک میڈیا ادارے کی ادارتی زبان سے شروع ہونے والا تنازع اب کینیڈا اور امریکا کے حساس سیکیورٹی تعاون تک پہنچ چکا ہے، اگرچہ کینیڈین حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان روزمرہ قانون نافذ کرنے اور قومی سلامتی کا تعاون بدستور جاری ہے۔
