اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مصنوعی مٹھاس یا آرٹیفیشل سویٹنرز آج کل ہمارے روزمرہ کے کھابوں اور مشروبات میں عام استعمال ہوتے ہیں۔
خاص طور پر وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد اور ذیابیطس کے مریض چینی کے متبادل کے طور پر ایسی مصنوعات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں سامنے آنے والی ایک جدید سائنسی تحقیق نے مصنوعی مٹھاس کے شوقین افراد کے لیے ایک نئی بحث اور تشویش کا آغاز کر دیا ہے۔
اس تحقیق میں مصنوعی مٹھاس کے لیے استعمال ہونے والے مرکب اسپرٹیم (Aspartame) اور فالج کے دوران دماغی بافتوں کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان ایک ممکنہ تعلق کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ابتدائی نتائج ہیں اور ان کی حتمی تصدیق انسانوں پر ہونا باقی ہے، لیکن طبی ماہرین کے نزدیک یہ انتہائی غور طلب انکشافات ہیں۔
اسپرٹیم کیا ہے اور یہ کن اشیا میں پایا جاتا ہے؟
اسپرٹیم ایک مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والا کیمیائی مادہ ہے جو چینی کے مقابلے میں گناہوں کے حساب سے کئی گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مختلف ڈائٹ پروڈکٹس میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈائٹ اور زیرو شوگر کولڈ ڈرنکس: بازار میں ملنے والی زیادہ تر ڈائٹ سوڈا اور سافٹ ڈرنکس میں اسپرٹیم شامل ہوتا ہے۔
شوگر فری مصنوعات: شوگر فری چیونگ گم، کم کیلوری والی مٹھائیاں اور پیسٹریز۔
دیگر ڈائٹ اشیا: مختلف قسم کے فلیورڈ دہی، پروٹین شیکس اور ادویات کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
جانوروں پر کی جانے والی تحقیق اور اس کے چونکا دینے والے نتائج
اس نئی تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں پر تجربات کیے تاکہ یہ جانا جا सके کہ اسپرٹیم کا استعمال جسم اور بالخصوص دماغ پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ تحقیق کا طریقہ کار اور اس کے نتائج درج ذیل ہیں:
تجرباتی طریقہ کار: سائنسدانوں نے چوہوں کو ایک ہفتے تک باقاعدگی سے اسپرٹیم ملا پانی پلایا، جس کے بعد ان میں اسکیمک فالج (Ischemic Stroke) جیسی کیفیت پیدا کی گئی۔
دماغی بافتوں کا ضیاع: جن چوہوں کو اسپرٹیم نہیں دیا گیا تھا، ان کے دماغ کے مردہ ہونے والے بافتوں کا رقبہ تقریباً 24.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس، زیادہ مقدار میں اسپرٹیم استعمال کرنے والے چوہوں میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ کر تقریباً 58.6 فیصد تک پہنچ گئی۔
دماغ کے اہم حصوں کو نقصان: اسپرٹیم استعمال کرنے والے چوہوں میں دماغی خلیوں (Neurons) کی موت بہت زیادہ دیکھی گئی۔ بالخصوص دماغ کے دو انتہائی اہم حصے یعنی سیریبرل کارٹیکس اور ہپپو کیمپس شدید متاثر ہوئے۔ یہ دونوں حصے انسانی جسم میں سوچنے، سیکھنے، فیصلے کرنے اور یادداشت کو برقرار رکھنے کے ذمے دار ہوتے ہیں۔
خلیوں کی سطح پر تباہی: مائٹوکونڈریا اور آکسیڈیٹو اسٹریس
لیبارٹری کی سطح پر جب انسانی اور جانوروں کے دماغی خلیوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اسپرٹیم کی موجودگی خلیوں کے لیے زہریلی ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کی کمی: متاثرہ خلیوں میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 25 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
مائٹوکونڈریا کو نقصان: اس کی بنیادی وجہ خلیوں کا پاور ہاؤس کہلانے والا حصہ یعنی مائٹوکونڈریا تھا، جو شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔
آکسیڈیٹو اسٹریس میں اضافہ: تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسپرٹیم کی موجودگی کی وجہ سے مائٹوکونڈریا کے اندر ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز کی مقدار بڑھ گئی، جس سے خلیوں کے اندرونی نظام میں آکسیڈیٹو اسٹریس میں شدید اضافہ ہوا۔
حفاظتی نظام کی ناکامی: اسپرٹیم نے خلیوں کے اس قدرتی اور کیمیائی حفاظتی راستے کو بھی متاثر کیا جو عام حالات میں شدید جسمانی دباؤ کے دوران خلیوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، جب لیبارٹری میں ایسے خاص کیمیائی مرکبات کا استعمال کیا گیا جو اس حفاظتی راستے کو متحرک کرتے ہیں، تو خلیوں کی اموات اور سوجن میں کچھ حد تک کمی دیکھی گئی۔
دیگر مصنوعی مٹھاس کا موازنہ
محققین نے اپنی اس تحقیق میں صرف اسپرٹیم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں دستیاب دو دیگر مشہور مصنوعی سویٹنرز—سکرالوز (Sucralose) اور اسیسلفیم پوٹاشیم (Acesulfame Potassium)—پر بھی تجربات کیے۔
حیرت انگیز طور پر ان دونوں دیگر مصنوعی مٹھاس والے مرکبات میں اسپرٹیم جیسا اضافی زہریلا اثر یا خلیوں کو نقصان پہنچانے والی خصوصیات سامنے نہیں آئیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر مصنوعی سویٹنر کا کیمیائی اثر جسم پر یکساں نہیں ہوتا۔
محققین کی اہم وضاحت اور احتیاطی تدبیر
اس تمام تحقیق کے باوجود، سائنسدانوں اور طبی ماہرین نے عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک اہم وضاحت جاری کی ہے:
"اس تحقیق کو اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ عام اور معمول کے حالات میں اسپرٹیم انسانوں کے صحت مند دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔”
اصل میں اس تحقیق کا بنیادی اور مرکزی سوال یہ تھا کہ اگر کسی انسان کو پہلے ہی فالج (اسکیمک اٹیک) کا سامنا ہو اور اس کا دماغ آکسیجن کی شدید کمی سے دوچار ہو، تو کیا اس دوران اسپرٹیم کا استعمال دماغی نقصان میں مزید اضافہ کر سکتا ہے؟
موجودہ تجرباتی نتائج نے چوہوں اور لیبارٹری سیلز میں اس خدشے کی بھرپور نشاندہی کی ہے۔ تاہم، انسانوں پر اس کے براہ راست اثرات کی حتمی سائنسی تصدیق کے لیے ابھی مزید وسیع پیمانے پر طبی تحقیقات کی ضرورت باقی ہے۔ طبی ماہرین یہی مشورہ دیتے ہیں کہ متوازن غذا کا استعمال کیا جائے اور کسی بھی مصنوعی یا کیمیائی شے کے بے دریغ استعمال سے گریز کیا جائے۔
