پہلے اپنی لیگ، پھر غیر ملکی مقابلے؛ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بگ بیش کو ترجیح دینے کی ہدایت

  اردو ورلڈکینڈا ( ویب نیوز   ) کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے کھلاڑیوں کے لیے غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت سے متعلق پالیسی مزید واضح کرتے ہوئے ملکی کرکٹ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی حکمت عملی کے تحت آسٹریلوی کھلاڑیوں کو پہلے اپنی ڈومیسٹک لیگ، بگ بیش لیگ (بی بی ایل)، کے لیے دستیاب ہونا ہوگا، جس کے بعد انہیں غیر ملکی لیگز میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔

اس فیصلے کا بنیادی مقصد آسٹریلیا کی مقبول ٹی ٹوئنٹی لیگ کو مضبوط بنانا اور قومی سطح کے نمایاں کھلاڑیوں کی بگ بیش میں موجودگی یقینی بنانا ہے۔

میچل مارش اور میٹ شارٹ کے معاہدے بھی زیرِ بحث

میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی کپتان میچل مارش اور آل راؤنڈر میٹ شارٹ نے ساؤتھ افریقہ ٹی ٹوئنٹی لیگ کے لیے معاہدے کیے ہیں۔ دونوں کھلاڑی پہلی مرتبہ اس جنوبی افریقی لیگ میں شرکت کریں گے۔

تاہم کرکٹ آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی لیگ میں شرکت کا معاملہ بگ بیش لیگ میں ان کی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔

بگ بیش کمٹمنٹ مکمل کرنا لازمی

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق میچل مارش اور میٹ شارٹ کو بگ بیش لیگ سے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد غیر ملکی لیگ کے لیے ریلیز کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :

سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر نے بڑا جرم قبول کرلیا، کتنی سزا ہو سکتی ہے ؟

اس پالیسی کے نتیجے میں دونوں کھلاڑی بگ بیش لیگ کے مکمل ایڈیشن کے لیے دستیاب رہیں گے۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا اپنے اہم کھلاڑیوں کو غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھیجنے سے قبل ملکی لیگ کے مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔

بگ بیش اور ایس اے ٹی ٹوئنٹی کی تاریخیں ٹکرائیں گی

آسٹریلوی بورڈ کے فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بگ بیش لیگ اور ساؤتھ افریقہ ٹی ٹوئنٹی لیگ کے شیڈول میں خاصا اوورلیپ موجود ہے۔

بگ بیش لیگ کا آئندہ ایڈیشن 12 دسمبر سے 26 جنوری تک جاری رہے گا، جبکہ ساؤتھ افریقہ ٹی ٹوئنٹی لیگ کا آغاز 17 جنوری سے ہوگا۔ یوں دونوں ٹورنامنٹس کے شیڈول ایک ہی عرصے میں جاری رہیں گے۔

اسی وجہ سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کی دستیابی دونوں لیگز کے لیے ایک اہم معاملہ بن گئی ہے۔

ملکی لیگ کو مضبوط بنانے کی کوشش

کرکٹ آسٹریلیا طویل عرصے سے بگ بیش لیگ کو آسٹریلوی کرکٹ کے اہم ترین ڈومیسٹک مقابلوں میں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کی تعداد اور مقبولیت میں اضافے کے باعث بڑے کھلاڑیوں کی دستیابی اب ہر بورڈ کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔

غیر ملکی لیگز میں زیادہ معاوضوں اور مختلف نوعیت کے مواقع کے باعث کئی کھلاڑی ان مقابلوں میں شرکت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں کرکٹ آسٹریلیا کا نیا طریقہ کار بگ بیش کی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کھلاڑیوں کے لیے ترجیحات واضح

نئی پالیسی سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے لیے یہ ترجیح واضح ہو گئی ہے کہ قومی اور ملکی کرکٹ سے وابستگی کے بعد ہی انہیں بیرون ملک ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کے مواقع حاصل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:

آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر

میچل مارش اور میٹ شارٹ کا معاملہ اس پالیسی کی عملی مثال بن گیا ہے، کیونکہ دونوں کو جنوبی افریقہ کی لیگ میں شرکت سے قبل بگ بیش کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بڑھتا ہوا مقابلہ

دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ تیزی سے پھیل رہی ہے اور مختلف ممالک اپنی اپنی فرنچائز لیگز منعقد کر رہے ہیں۔ ان مقابلوں میں بڑے ناموں کی شرکت سے کھلاڑیوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس صورتحال نے قومی اور ملکی کرکٹ کے شیڈول کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کا حالیہ فیصلہ اسی بدلتے ہوئے ماحول میں ملکی لیگ کے مفادات کے تحفظ کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ بورڈ کی پالیسی کے تحت بگ بیش لیگ میں اہم آسٹریلوی کھلاڑیوں کی مکمل دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں