اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں ایک خاتون نیوز اینکر کی لائیو نشریات کے دوران چند لمحوں کے لیے آنکھ لگنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو دیکھنے والے حیران رہ گئے تاہم بعد میں اینکر کی نیند کی وجہ سامنے آنے پر لوگوں نے تنقید کے بجائے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس سے تعلق رکھنے والی ٹی وی اینکر ڈومینک ڈیلن صبح کے پروگرام ’گڈ مارننگ میمفس‘ کی میزبانی کرتی ہیں۔ 29 جولائی کو پروگرام کے دوران وہ کیمرے کے سامنے موجود تھیں کہ چند لمحوں کے لیے ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہ مختصر وقت کے لیے سو گئیں۔
لائیو پروگرام میں اچانک آنکھ لگ گئی
پروگرام کے دوران ڈومینک ڈیلن اپنی نشست پر موجود تھیں اور بظاہر اپنی توجہ ٹیبلٹ کی جانب کیے ہوئے تھیں۔ اسی دوران وہ چند سیکنڈ کے لیے نیند کی حالت میں چلی گئیں۔
اینکر کو خود بھی فوری طور پر احساس نہیں ہوا کہ وہ لائیو نشریات کے دوران سو گئی ہیں۔ جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو کیمرہ دوسرے منظر کی جانب منتقل ہوچکا تھا۔
بعد ازاں ڈومینک نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس وقت شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق جب انہیں اندازہ ہوا کہ کیا ہوا ہے تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی عجیب خواب سے جاگ گئی ہوں۔
اسٹوڈیو میں موجود افراد بھی بے خبر رہے
اس واقعے کی ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ اسٹوڈیو میں موجود پروگرام کی تیاری کرنے والی ٹیم کو ابتدا میں اندازہ نہیں ہوا کہ اینکر سو گئی ہیں۔
پروڈیوسرز نے سمجھا کہ ڈومینک اپنے سامنے موجود ٹیبلٹ پر نظر ڈال رہی ہیں۔ اس لیے چند لمحوں کی اس نیند کو فوری طور پر محسوس نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :
چاند کے گرد تاریخی سفر جاری،کینیڈین خلا باز کی براہِ راست گفتگو، بچوں کے سوالات کے دلچسپ جوابات
بعد میں جب واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر مختلف انداز میں ردعمل دینا شروع کردیا۔
دو بچوں کی ماں ہیں نیوز اینکر
ڈومینک ڈیلن کی مختصر نیند کی اصل وجہ سامنے آنے کے بعد واقعے کی نوعیت ہی بدل گئی۔ معلوم ہوا کہ اینکر دو کم عمر بچوں کی ماں ہیں اور لائیو پروگرام سے قبل انہیں رات بھر بچوں کی دیکھ بھال کرنا پڑی تھی۔
ڈومینک کی بڑی بیٹی دو سال کی ہے جبکہ ان کی چھوٹی بیٹی کی عمر صرف آٹھ ماہ ہے۔ واقعے سے ایک رات قبل ان کے شوہر ڈبل شفٹ پر کام کررہے تھے جس کی وجہ سے بچوں کی دیکھ بھال کی مکمل ذمہ داری ڈومینک کے پاس تھی۔
رات بھر بچی کی دیکھ بھال کرتی رہیں
اینکر کے مطابق انہوں نے رات تقریباً 8 بجے بچوں کو سلانے کی کوشش شروع کی تھی۔ تاہم ان کی آٹھ ماہ کی بیٹی دانت نکلنے کی تکلیف کے باعث سو نہیں رہی تھی۔
کئی گھنٹوں تک بچی کو سلانے کی کوشش جاری رہی اور بالآخر وہ رات ساڑھے 10 سے 11 بجے کے درمیان سو سکی۔ اس کے بعد ڈومینک کے پاس خود آرام کرنے کے لیے بہت کم وقت بچا تھا کیونکہ انہیں علی الصبح اپنی ملازمت کے لیے روانہ ہونا تھا۔
ڈومینک نے بتایا کہ ان کا معمول عام دنوں میں بھی انتہائی مصروف ہے۔ وہ صبح سویرے شروع ہونے والی ڈیوٹی کی تیاری کے لیے عموماً رات ڈیڑھ بجے کے قریب اٹھ جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں مسلسل کم نیند نے لائیو پروگرام کے دوران ان پر غلبہ پالیا۔
ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین نے ہمدردی کی
لائیو نشریات کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ بعض صارفین نے ابتدا میں اسے حیران کن قرار دیا تاہم جیسے ہی اینکر کی صورتحال اور رات بھر جاگنے کی وجہ سامنے آئی تو لوگوں کا ردعمل تبدیل ہوگیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے ڈومینک کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی محنت اور بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے کہا کہ کام کرنے والی ماؤں کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ بچوں کی پرورش کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں :
97 سالہ برطانوی خاتون نے فالج کے بعد اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا
ادارے نے بھی اینکر کا دفاع کردیا
اینکر کے ادارے فاکس 13 نے بھی ڈومینک ڈیلن کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور واقعے کو ہلکے پھلکے انداز میں ’پاور نیپ‘ قرار دیا۔
ادارے کی جانب سے اس واقعے کو ایک ایسے موقع کے طور پر پیش کیا گیا جس نے نئی ماؤں کی مشکلات کو اجاگر کیا۔ خصوصاً ان خواتین کے لیے جو ایک طرف ملازمت کی سخت ذمہ داریاں پوری کررہی ہوں اور دوسری جانب کم عمر بچوں کی دیکھ بھال بھی ان کے ذمے ہو۔
یہ واقعہ بظاہر لائیو ٹی وی پر ایک غیر متوقع لمحہ تھا لیکن ڈومینک ڈیلن کی صورتحال سامنے آنے کے بعد اس نے کام کرنے والی ماؤں کو درپیش تھکن، نیند کی کمی اور ذمہ داریوں کے دباؤ پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔