اردو ورلڈ کینڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں ہونے والی دو نئی مطالعات میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والا دھواں انسانی صحت کے لیے عام فضائی آلودگی کے مقابلے میں زیادہ سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
محققین کے مطابق جنگلات کی آگ کے دھوئیں میں موجود انتہائی باریک ذرات طویل اور قلیل مدتی دونوں طرح کے صحت کے مسائل سے منسلک ہوسکتے ہیں۔
آئیکن اسکول آف میڈیسن کے محققین کی جانب سے کی جانے والی ان تحقیقات میں خاص طور پر پی ایم 2.5 ذرات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ انتہائی باریک آلودگی کے ذرات ہوتے ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں خون کے بہاؤ میں بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
صحت بخش غذائیں بعض افراد کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں، تحقیق میں اہم انکشاف
تحقیق کے نتائج بالترتیب نیچر کمیونیکیشنز اور دی لانسیٹ اونکالوجی میں شائع ہوئے۔ مطالعات میں جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے پی ایم 2.5 اور صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اسپتال میں داخلے کا زیادہ خطرہ
مِن ژینگ اور سینئر مصنف یاگوانگ وی کی رہنمائی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے پی ایم 2.5 سے ایک خاص مقدار میں ایکسپوژر دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والے پی ایم 2.5 کے مقابلے میں قلبی اور تنفسی بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخلے کے زیادہ خطرے سے وابستہ پایا گیا۔
محققین نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایم 2.5 کی مجموعی مقدار کو دیکھنا ہی کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ یہ آلودگی کس ذریعے سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مختلف ذرائع سے آنے والے ایک جیسے حجم کے باریک ذرات انسانی صحت پر یکساں اثر نہیں ڈال سکتے۔
پھیپھڑوں کے سرطان سے تعلق
دوسری تحقیق میں پھیپھڑوں کے سرطان کے مریضوں میں جنگلات کی آگ کے دھوئیں سے متعلق پی ایم 2.5 کے طویل مدتی ایکسپوژر کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج میں ایسے ایکسپوژر کو مریضوں میں کم بقا کی شرح کے ساتھ منسلک پایا گیا۔
تاہم محققین کی جانب سے بیان کردہ یہ تعلق اس بات کا براہ راست ثبوت نہیں کہ جنگلات کی آگ کا دھواں ہر فرد میں سرطان یا موت کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق بنیادی طور پر طویل مدتی ایکسپوژر اور صحت کے نتائج کے درمیان تعلق کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
آلودگی کے ماخذ کی اہمیت
محققین کے مطابق مطالعات سے یہ اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات کا اندازہ لگاتے وقت صرف آلودگی کی مقدار کو مدنظر رکھنا کافی نہیں۔ آلودگی کا ذریعہ اور اس میں موجود ذرات کی خصوصیات بھی صحت کے ممکنہ اثرات میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔
جنگلات کی آگ کے دھوئیں میں پی ایم 2.5 کے علاوہ دیگر کیمیائی اجزا اور آلودگی پھیلانے والے عناصر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ آگ کی شدت، جلنے والے مواد اور موسمی حالات کے مطابق دھوئیں کی ترکیب مختلف ہوسکتی ہے۔
بڑھتا ہوا عوامی صحت کا مسئلہ
جنگلات کی آگ کا دھواں اب صرف ان علاقوں تک محدود نہیں رہتا جہاں آگ لگی ہو۔ ہوا کے رخ اور موسمی حالات کے باعث دھواں طویل فاصلوں تک سفر کرسکتا ہے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :
کینیڈا میں صحت مند زندگی کے لیے بڑا اقدام، حکومت نے 6 ملین ڈالر مختص کردیئے
امریکا کے مختلف حصوں میں جنگلات کی آگ کے دھوئیں کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے باعث صحت عامہ کے ماہرین میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر بچوں، عمر رسیدہ افراد، سانس یا قلبی بیماریوں میں مبتلا افراد اور پہلے سے پھیپھڑوں کے مسائل رکھنے والے لوگوں کے لیے آلودہ ہوا سے ایکسپوژر ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
نئی تحقیقات اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیتے وقت آلودگی کے مختلف ذرائع کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ محققین کے مطابق جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں اس کے دھوئیں سے پیدا ہونے والے طویل مدتی صحت کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
