عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ، صحت مند قرار،واپس اڈیالہ جیل منتقل

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کو رات گئے طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد جمعہ کی صبح دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ تاہم عمران خان کو کس ہسپتال میں لے جایا گیا، اس معاملے نے سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے چند روز قبل انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ طبی معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، جہاں شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں نے عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا۔

پمز منتقلی کی حکومتی وجہ کیا بتائی گئی؟

عطا تارڑ کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جانے والے راستے اور ہسپتال کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی موجودگی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ حکومت کے مطابق اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں طبی معائنے کے لیے شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود رہے۔

یہ بھی پڑھیں :

 پارٹی میری بات نہیں مان رہی عمران خان سے آخری ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کا بڑا دعویٰ

حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ مؤقف اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی محض طبی معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ سکیورٹی، عدالتی احکامات اور سیاسی کشیدگی بھی جڑی ہوئی ہے۔

رات کے وقت عمران خان کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پہلے دستیاب اطلاعات میں ان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم بعد میں حکومت نے واضح کیا کہ طبی معائنہ پمز میں کیا گیا۔

ڈاکٹروں نے عمران خان کو صحت مند قرار دیا: حکومت

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق طبی معائنے کے دوران ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں نے عمران خان کا جائزہ لیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی طبی معائنے اور علاج کے مراحل کے دوران موجود رہیں۔

طبی معائنے کے بعد عمران خان کو ہسپتال میں داخل رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ عطا تارڑ کے مطابق واپسی کا عمل 21 اگست کی صبح تقریباً پانچ بجے مکمل ہوا۔

وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کو ماضی میں بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ ضرورت پڑنے پر بھی انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

معاملے کا دوسرا رخ: سپریم کورٹ کا شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم

اس واقعے کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے دوران موجود رہنے کی اجازت دی تھی۔

ابتدائی طور پر حکومت نے اس عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں حکومت کی جانب سے نظرثانی درخواست بھی دائر کی گئی، جس میں عدالتی حکم پر نظرثانی کی استدعا کی گئی۔

مزید پڑھیں :

سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

یہ پس منظر موجودہ صورتحال کو محض ایک طبی منتقلی سے زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔ ایک طرف حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث پمز میں طبی معائنہ کرانا ضروری تھا، جبکہ دوسری طرف عدالتی حکم میں شفا اسپتال کا نام سامنے آنے کی وجہ سے اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا مؤقف اختیار کیا

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کیا۔ پارٹی کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے دوسرے ہسپتال لے جایا گیا، جو ان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالتی حکم میں کوئی ابہام نہیں تھا اور اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا بدقسمتی ہے۔

عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی جمعہ کو اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کے طبی معائنے کی توقع تھی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ معائنہ پمز میں ہوچکا ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف میں بنیادی اختلاف

اس پورے معاملے میں بنیادی اختلاف اس سوال پر ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کس انداز میں عمل کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طبی معائنے کے لیے ضروری طبی ماہرین کی موجودگی یقینی بنائی گئی اور شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی پمز میں موجود تھے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم میں مخصوص ہسپتال کا تعین موجود تھا، اس لیے کسی دوسرے ہسپتال میں معائنہ کرانا حکم کی مکمل تعمیل نہیں۔

یہ اختلاف آنے والے دنوں میں قانونی بحث کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ حکومت نے پہلے ہی عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے بھی عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

معاملہ طبی سے زیادہ قانونی اور سیاسی کیوں بن گیا؟

عمران خان کی صحت سے متعلق سوال اس معاملے کا ابتدائی سبب تھا، لیکن اب اس کے ساتھ کئی دوسرے پہلو جڑ گئے ہیں۔ ایک جانب ان کی صحت اور طبی ضروریات ہیں، دوسری جانب جیل انتظامیہ اور حکومت کے سکیورٹی خدشات ہیں، جبکہ تیسری طرف سپریم کورٹ کا حکم اور اس کی تشریح کا معاملہ ہے۔

اسی لیے حکومت کی جانب سے عمران خان کو صحت مند قرار دیے جانے کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا۔ طبی معائنہ مکمل ہونے اور جیل واپسی کے بعد بھی اصل بحث اس بات پر جاری ہے کہ آیا عدالتی حکم پر اس کی روح اور الفاظ کے مطابق عمل کیا گیا یا نہیں۔

اڈیالہ جیل واپسی کے بعد اگلا مرحلہ

عمران خان کو طبی معائنے کے چند گھنٹوں بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی صحت تسلی بخش ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قانونی راستہ اختیار کرنے اور عدالتی حکم پر عملدرآمد کے معاملے کو آگے بڑھانے کی بات کررہی ہے۔

یوں عمران خان کا حالیہ طبی معائنہ بظاہر مکمل ہوچکا ہے، مگر اس کے گرد پیدا ہونے والا سیاسی اور قانونی تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ حکومت کے مطابق سکیورٹی صورتحال نے پمز میں معائنے کو ضروری بنایا، جبکہ پی ٹی آئی کے نزدیک شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے متعلق عدالتی حکم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت نظرثانی کی کارروائی اور فریقین کے قانونی مؤقف سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے معاملے کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ عمران خان کو طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے، لیکن ان کی ہسپتال منتقلی کا طریقہ کار ایک نئے سیاسی اور قانونی تنازع کا مرکز بن چکا ہے۔

ہمیں فالو کریں