قانونی ماہر راجہ عامر عباس نے کہا کہ فیصلہ بنیادی طور پر بہت اہم ہے، وکلا تنظیمیں اپیل کا حق مانگ رہی تھیںاس فیصلے سے نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، فیصلے کا اطلاق آنے والے فیصلوں پر ہوگا۔ کیس میں فل کورٹ تشکیل دیا گیا تھا
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ برقرار،درخواستیں خارج
عرفان قادر نے کہا کہ اپیل کا حق دینا بہت اچھا فیصلہ ہے، اپیل کا حق پہلے بھی لوگوں سے چھین لیا گیا، نواز شریف نظرثانی کے لیے جاسکتے ہیں، نظرثانی کا وقت 30 دن کا ہے، نظرثانی مکمل دیکھیں گے۔ عدالت، میری نہیں
امان یوسفزئی نے کہا کہ فیصلے کے مطابق نواز شریف کو اپیل کا حق نہیں ملے گا، عام آدمی کو اپیل اور نظرثانی کا حق مل گیا۔
