اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں تین سال قبل سڑک پر بے ہوش ہوکر گرنے والے ایک پراسرار شخص کی شناخت نے پولیس کو کینیڈا تک پہنچا دیا ہے۔ ڈچ اور کینیڈین پولیس اس امکان کی تحقیقات کررہی ہیں کہ کہیں یہ شخص برٹش کولمبیا کے شہر وینکوور سے تعلق رکھنے والا وہ شخص تو نہیں جو تین دہائیوں سے لاپتا ہے۔
ایمسٹرڈیم پولیس کے مطابق یہ شخص ’’لکی‘‘ کے عرفی نام سے جانا جاتا تھا اور 10 مئی 2023 کو سڑک پر اچانک گر گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے خیال میں اسے فالج یا دماغ میں خون بہنے کا مسئلہ پیش آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد اسے ایسی طبی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا جسے ’’ایفیزیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں انسان کے لیے بولنے، پڑھنے، لکھنے اور دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
شناخت کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا
پولیس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس شخص کے پاس شناختی کارڈ یا پاسپورٹ موجود نہیں تھا۔ وہ مختلف ناموں اور عرفی ناموں سے جانا جاتا تھا اور اس کی زندگی سے متعلق سرکاری ریکارڈ بھی انتہائی محدود تھا۔
ایمسٹرڈیم پولیس کی ترجمان ماریکے اسٹور کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ وہ کہاں رہتا تھا، لیکن وہ تقریباً ہر ادائیگی نقد رقم میں کرتا تھا۔پولیس کو اس کے نام سے کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ملا، جبکہ اس کا کوئی واضح ڈیجیٹل ریکارڈ بھی سامنے نہیں آیا۔
یہ صورت حال تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بن گئی، کیونکہ جدید دور میں بھی اس شخص کی شناخت سے متعلق ایسا کوئی واضح سراغ دستیاب نہیں تھا جو پولیس کو اس کے ماضی تک پہنچا سکتا۔
کینیڈین شخص سے مشابہت
جب ابتدائی تحقیقات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو معاملہ ڈچ پولیس کے کولڈ کیس یونٹ کو منتقل کردیا گیا۔ حال ہی میں پولیس نے پراسرار شخص کی شناخت کے لیے ایک ویڈیو اپیل جاری کی، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔
ان میں سے کئی افراد نے ایک ممکنہ کینیڈین تعلق کی طرف اشارہ کیا۔پولیس نے جب ان معلومات کا جائزہ لیا تو ’’لکی‘‘ کی ظاہری شکل حیرت انگیز طور پر جان رسل کینی سے ملتی جلتی نظر آئی، جو وینکوور سے تعلق رکھنے والا شخص ہے اور تین دہائیوں سے لاپتا ہے۔
جان رسل کینی کون ہے؟
وینکوور پولیس کے مطابق جان رسل کینی اس وقت 67 برس کے ہوتے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اسے ذہنی صحت سے متعلق مشکلات کا سامنا تھا اور وہ ایک غیر مستقل طرز زندگی گزارتا تھا۔اس کے خاندان کا اس سے آخری رابطہ 1993 میں ہوا تھا، جس کے بعد وہ لاپتا ہوگیا۔
کینی اصل میں اونٹاریو سے تعلق رکھتا تھا اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے مطابق اسے ٹرین کے ذریعے سفر کرنے کا شوق تھا۔ اس کے ماضی اور سفر سے متعلق معلومات بھی پولیس کے لیے اس ممکنہ شناخت کی تحقیقات میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔
انگریزی لہجے کا سراغ
ڈچ پولیس کو ایک اہم سراغ اس وقت ملا جب انہوں نے ان لوگوں سے بات کی جو بیماری سے قبل ’’لکی‘‘ کو جانتے تھے۔پولیس ترجمان کے مطابق ایسے متعدد افراد نے بتایا کہ وہ ہمیشہ انگریزی بولتا تھا اور اس کا لہجہ امریکی یا کینیڈین محسوس ہوتا تھا۔
اس شخص کے کئی عرفی نام بھی سامنے آئے، جن میں ’’کرس دی کینیڈین‘‘، لوئس، لی، پونی ٹیل، سونی اور جان شامل ہیں۔خاص طور پر ’’کرس دی کینیڈین‘‘ کا عرفی نام تحقیقات میں دلچسپی کا باعث بنا ہے کیونکہ اس سے اس کے کینیڈا سے ممکنہ تعلق کا اشارہ ملتا ہے۔
پولیس کا محتاط رویہ
اگرچہ شواہد جان رسل کینی کی جانب اشارہ کررہے ہیں، تاہم ڈچ پولیس نے ابھی یہ تصدیق نہیں کی کہ ’’لکی‘‘ ہی جان رسل کینی ہے۔وینکوور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وہ نیدرلینڈز کی پولیس اور انٹرپول کے ساتھ مل کر فعال طور پر تحقیقات کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :غزہ پر اسرائیلی جارحیت ،پاکستان سمیت دنیا بھر یمظاہروں کا سلسلہ جاری
وینکوور پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور اگر مثبت شناخت سامنے آتی ہے تو مناسب وقت پر اس کی اطلاع دی جائے گی۔ڈچ پولیس نے بھی خبردار کیا ہے کہ صرف تصاویر کی مماثلت کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
پولیس ترجمان ماریکے اسٹور کے مطابق اس وقت چھ مضبوط سراغ موجود ہیں اور تحقیقات کار کسی ایک امکان پر اس وقت تک یقین نہیں کرنا چاہتے جب تک قابل اعتماد ثبوت حاصل نہ ہوجائے۔
ڈی این اے ٹیسٹ میں رکاوٹ
پولیس کے لیے شناخت کی تصدیق کا سب سے مضبوط ذریعہ ڈی این اے ٹیسٹ ہوسکتا ہے، لیکن اس معاملے میں قانونی رکاوٹیں موجود ہیں۔ماریکے اسٹور کے مطابق چونکہ یہ کسی جرم سے متعلق تحقیقات نہیں بلکہ ایک شخص کی شناخت کا معاملہ ہے، اس لیے پولیس کے اختیارات محدود ہیں۔
تاہم اگر جان رسل کینی کا کوئی قریبی خاندانی فرد سامنے آتا ہے تو ڈی این اے کے ذریعے ’’لکی‘‘ کی شناخت کی تصدیق ممکن ہوسکتی ہے۔اسی وجہ سے پولیس لاپتا کینیڈین کے خاندان یا اسے جاننے والے افراد سے رابطے کی امید کررہی ہے۔
ایمسٹرڈیم میں زندگی
پولیس کے مطابق ’’لکی‘‘ اس وقت ایمسٹرڈیم کے ایک نگہداشت مرکز میں رہتا ہے۔ بیماری کے باعث وہ اپنی ضروریات اور شناخت سے متعلق معلومات دوسروں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے قابل نہیں۔
وہ انگریزی کے چند الفاظ بول سکتا ہے، جن میں ’’نونسنس‘‘ اور ’’ڈیفنیٹلی‘‘ شامل ہیں، تاہم اس کے ساتھ کام کرنے والے ماہرین کے مطابق وہ اپنے لیے اہم فیصلے خود کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اس کی بیماری نے اس کے ماضی کو جاننے کا راستہ بھی تقریباً بند کردیا ہے۔
بدھ مت سے تعلق
ایمسٹرڈیم پولیس کے مطابق سڑک پر گرنے سے پہلے ’’لکی‘‘ کا تعلق شہر کی ایک بدھ مت کمیونٹی سے تھا۔ اس کی زندگی میں نیپال سے ممکنہ تعلق کے شواہد بھی ملے ہیں۔
ایمسٹرڈیم میں وہ واٹرلوپلین کے بازار اور دکانوں پر باقاعدگی سے جاتا تھا۔ وہ ’’سوپینزو‘‘ نامی ایک ریسٹورنٹ پر بھی آتا جاتا تھا۔پولیس کو امید ہے کہ ان مقامات سے وابستہ افراد اس کی شناخت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
کولڈ کیس ماہرین کی کوشش
دو ریٹائرڈ ڈچ پولیس افسران اب اس شخص کی شناخت کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک نام تلاش کرنا نہیں بلکہ ایسے خاندان تک پہنچنا ہے جو ممکنہ طور پر کئی دہائیوں سے اپنے لاپتا عزیز کی واپسی کا انتظار کررہا ہو۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ ’’لکی‘‘ تنہا ہے اور یہ ایک افسوسناک کہانی ہے۔ تحقیقات کار امید کررہے ہیں کہ اس کا کوئی خاندان یا اسے جاننے والا شخص سامنے آئے گا تاکہ اس کی زندگی کے باقی دن کچھ بہتر اور خوشگوار بنائے جاسکیں۔
اب تک جان رسل کینی اور ایمسٹرڈیم کے ’’لکی‘‘ کے درمیان مماثلتیں ضرور سامنے آئی ہیں، لیکن حتمی شناخت ابھی باقی ہے۔ اگر کوئی قریبی رشتہ دار سامنے آتا ہے اور ڈی این اے یا دیگر قابل اعتماد شواہد سے دونوں کی شناخت ایک ثابت ہوجاتی ہے تو یہ 30 سال سے زائد عرصے سے جاری ایک کینیڈین لاپتا شخص کے معمہ حل ہونے کی غیر معمولی داستان ہوگی۔
