اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد آکر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
احتجاج پر سخت مؤقف
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو بھرپور طریقے سے روکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کسی صورت ایسا موقع نہیں دیا جائے گا کہ احتجاج کے نام پر وفاقی دارالحکومت میں بدامنی یا انتشار کی صورتحال پیدا ہو۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک تحریک انصاف کو پرامن احتجاج کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق ماضی میں ہونے والے احتجاجوں کے دوران بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت کی سخت وارننگ
عطا تارڑ نے پی ٹی آئی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج کے معاملے میں ہوش کے ناخن لے، بصورت دیگر حکومت امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسلام آباد کو کسی ایسے سیاسی احتجاج یا سرگرمی کا مرکز نہیں بننے دے گی جس سے شہر کے معمولات زندگی متاثر ہوں یا شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔
عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری
وفاقی وزیر اطلاعات نے عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی سرگرمی میں شریک ہوسکتی ہیں۔
عطا تارڑ کے مطابق حکومت کے لیے امن و امان کا قیام اولین ذمہ داری ہے اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے یا صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں :مشکل حالات کے باوجود ریلیف پر مبنی بجٹ، ٹیکس نظام میں اصلاحات عوام کو ریلیف دیا،عطا تارڑ
پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون؟
پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال پر عطا تارڑ نے جماعت کے اندر فیصلہ سازی کے معاملے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پی ٹی آئی سے بات کرے تو کس سے کرے، کیونکہ پارٹی میں اصل فیصلہ ساز اور انچارج کا تعین واضح نہیں۔
وفاقی وزیر نے بیرسٹر گوہر کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف باتیں کرتے ہیں اور پارٹی میں ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں چند افراد مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار نہیں۔
مذاکرات پر تحفظات
عطا تارڑ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان افراد کے ساتھ مذاکرات کا کوئی جواز یا فائدہ نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول حکومت کو پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سیاسی جماعت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے ہیں تو اسے اپنی قیادت، فیصلہ سازی اور اختیار کے حوالے سے واضح پوزیشن اختیار کرنا ہوگی۔
اسلام آباد مارچ کا معاملہ
وفاقی وزیر اطلاعات کے حالیہ مؤقف کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے ممکنہ اسلام آباد احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی اور کسی کو وفاقی دارالحکومت کی طرف آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اسے آئینی اور جمہوری حق قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پرامن ہوگا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ماضی کے احتجاجوں کے تجربے کی بنیاد پر اسلام آباد میں امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے
اسلام آباد میں مجوزہ احتجاج کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔ حکومت امن و امان اور شہریوں کے معمولات متاثر نہ ہونے دینے پر زور دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو سیاسی اور آئینی حق قرار دے رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی احتجاج یا سیاسی سرگرمی کے دوران قانون اور امن و امان کی صورتحال کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
