کیوبک انتخابات میں ریفرنڈم کا معاملہ پھر چھا گیا،پانچوں جماعتوں کی انتخابی مہم تیز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبک میں انتخابی مہم 22ویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔ فرانسیسی زبان میں مسلسل دو مباحثوں کے بعد صوبے کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک بار پھر انتخابی مہم میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ حالیہ مباحثے میں کیوبک کی آزادی کے لیے ممکنہ ریفرنڈم کا معاملہ سب سے نمایاں موضوع بن کر سامنے آیا، جبکہ معیشت، روزگار، صحت، مہنگائی اور امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی زیر بحث رہے۔

ریفرنڈم پر گرما گرم بحث

دوسرے انتخابی مباحثے میں Parti Québécois کے رہنما پال سینٹ پیئر پلامونڈن کے ریفرنڈم کے منصوبے نے خاصی توجہ حاصل کی۔ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر ان سے سوالات کیے اور کیوبک کے مستقبل سے متعلق ان کے مؤقف کو چیلنج کیا۔

سیاسی تجزیہ کار ڈینیئل ٹران کے مطابق پہلے مباحثے کے مقابلے میں دوسرے مباحثے کے دوران ریفرنڈم کا معاملہ کہیں زیادہ نمایاں رہا۔ ان کے مطابق پہلے مباحثے میں پلامونڈن نے ریفرنڈم کا لفظ تک استعمال نہیں کیا تھا، جبکہ دوسرے مباحثے میں تقریباً تمام رہنما اس موضوع پر بات کرتے دکھائی دیے۔

CAQ کا مؤقف

Coalition Avenir Québec کی رہنما کرسٹین فریشیت نے سوال اٹھایا کہ کیوبک کو ریفرنڈم کے ذریعے مزید غیر یقینی صورتحال میں کیوں ڈالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو اس وقت دیگر اہم معاشی اور سماجی مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کیوبک لبرل پارٹی کے رہنما چارلس میلیارڈ نے بھی Parti Québécois کے ریفرنڈم سے متعلق منصوبے پر سوالات اٹھائے۔

پی کیو نے وضاحت کردی

پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیوبک اس وقت ریفرنڈم کی مہم نہیں چلا رہا بلکہ یہ انتخابات حکومت تشکیل دینے کے لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم سے متعلق بحث کو موجودہ انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ان کی جماعت کا مقصد انتخابات کے ذریعے حکومت بنانا ہے۔

Québec solidaire کی شریک رہنما روبہ غزال نے کہا کہ کیوبک کی آزادی کا مطلب کینیڈا کے خلاف ہونا نہیں ہوگا۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ایرک ڈوہیم نے کیوبک میں 1980 اور 1995 میں ہونے والے سابقہ ریفرنڈمز کا حوالہ دیا۔

مباحثہ کس کے نام رہا؟

ڈینیئل ٹران کے مطابق دوسرے مباحثے میں پانچوں رہنماؤں کے درمیان مقابلہ کافی سخت رہا اور کوئی ایک رہنما واضح طور پر دوسروں سے آگے نظر نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ جب انتخابی مباحثے میں کوئی امیدوار نمایاں طور پر سبقت حاصل نہ کرسکے تو اس صورتحال سے پہلے سے مضبوط پوزیشن رکھنے والی جماعت کو فائدہ مل سکتا ہے۔

اب اگلا اور آخری بڑا مباحثہ انتخابی مہم کا اہم مرحلہ ہوگا، جہاں جماعتوں کے رہنماؤں کو براہ راست کیوبک کے ووٹرز کے سامنے اپنے مؤقف پیش کرنے کا ایک اور موقع ملے گا۔

30 ہزار ملازمتوں پر تشویش

کرسٹین فریشیت نے جمعرات کو ورشیر اور سینٹ ہایاسنتھ میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران کہا کہ کیوبک حکومت تقریباً 60 کمپنیوں میں موجود 30 ہزار ملازمتوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیوبک انتخابات میں سیاسی مقابلہ تیز، پہلے مباحثے سے قبل جماعتوں کی مالی پالیسیوں پر نظریں

ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے محصولات ان کمپنیوں کے کاروبار اور ملازمتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

والدین کے لیے نئی تجویز

CAQ نے انتخابی مہم کے دوران کیوبک کے والدین انشورنس پلان میں تبدیلی کی تجویز بھی پیش کی۔ جماعت کا کہنا ہے کہ والدین کو دستیاب سہولت اور چھٹیوں کو موجودہ 18 ماہ کے بجائے پانچ سال کے عرصے میں استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

اس تجویز کا مقصد والدین کو اپنے خاندانی حالات کے مطابق چھٹیوں کے استعمال میں زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔

حکومت کے اخراجات پر تنقید

حالیہ مباحثے میں CAQ حکومت کے تقریباً آٹھ سالہ دور اقتدار کو بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے حکومت پر 6 ارب ڈالر سے زیادہ ضائع کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ چارلس میلیارڈ نے CAQ کے اخراجات کا موازنہ ’’کوسٹکو میں خریداری‘‘ سے کیا۔

کرسٹین فریشیت نے تسلیم کیا کہ حکومت سے غلطیاں ہوئی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور کئی معاملات میں اصلاحات کیں۔

لبرلز کا صحت منصوبہ

چارلس میلیارڈ نے میگانٹک میں صحت کے شعبے سے متعلق منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے مقامی صحت کی ٹیموں کو مضبوط بنانے کے لیے مزید 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

انہوں نے CLSC کو کیوبک کے شہریوں کے لیے مقامی صحت کی سہولت کا مرکزی نقطہ بنانے اور علاقائی علاقوں میں زچگی کی خدمات برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا۔

کسانوں کے لیے کنزرویٹو منصوبہ

ایرک ڈوہیم نے انتخابی مہم کے دوران زرعی شعبے کا منصوبہ پیش کیا۔ کنزرویٹو پارٹی نے کسانوں کے لیے سرخ فیتہ کم کرنے، موجودہ ضابطوں کو آسان بنانے اور چار سال تک نئی سخت زرعی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ کیا۔

جماعت نے بنیادی خوراک کی پروسیسنگ کو لازمی سروس قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ مزدور تنازعات کے دوران خوراک کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔

یورپ سے تجارت بڑھانے کی امید

کرسٹین فریشیت اور چارلس میلیارڈ نے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کے ساتھ تجارتی روابط میں اضافہ کیوبک کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھول سکتا ہے۔

یوں کیوبک کی انتخابی مہم میں آزادی اور ریفرنڈم کے سوال کے ساتھ ساتھ روزگار، امریکی محصولات، صحت، خاندانوں کے مسائل، زراعت اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی اہم انتخابی موضوعات بن چکے ہیں۔

ہمیں فالو کریں