البرٹا ریفرنڈم، ڈاک کے ذریعے ووٹ کی درخواستیں 5 لاکھ سے تجاوز کرگئیں

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے درخواستوں کی تعداد 5 لاکھ 9 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ انتخابات کرانے والے ادارے Elections Alberta کے مطابق یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور صوبے میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ متوقع ہے۔

5 لاکھ سے زائد درخواستیں

Elections Alberta نے جمعرات کو بتایا کہ اب تک ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے 509,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ ڈاک کے ذریعے ووٹ کے لیے درخواستوں کا عمل جولائی کے وسط میں شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یہ تعداد 2023 کے البرٹا عام انتخابات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اس وقت تقریباً 60 ہزار خصوصی بیلٹ کے لیے درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

قواعد میں تبدیلی

دونوں انتخابات کے درمیان ایک اہم فرق صوبائی قوانین میں تبدیلی بھی ہے۔ نئے قواعد کے تحت ووٹرز کو اب ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے کوئی وجہ بتانا ضروری نہیں۔

تاہم ریفرنڈم کے لیے ابتدائی بیلٹ پیکجز موصول ہونے کے بعد بعض ووٹرز نے فارم میں درج ایک حلف نامے پر اعتراض کیا۔ فارم میں ووٹر سے یہ اعلان کرنے کو کہا گیا تھا کہ وہ ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کے قابل نہیں، بصورت دیگر اسے بھاری جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Elections Alberta نے بعد میں وضاحت کی کہ فارم میں موجود یہ زبان پرانی تھی۔ ادارے نے ووٹرز کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حصے کو کاٹ دیں اور باقی حلف نامہ معمول کے مطابق مکمل کریں۔

ووٹرز سے دوبارہ رابطہ

Elections Alberta کی ترجمان مایا ہنراہن کے مطابق جن ووٹرز کو 4 ستمبر سے پہلے بیلٹ پیکجز بھیجے گئے تھے، ادارے نے ان تمام افراد سے دوبارہ رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں فارم کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ادارہ ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کے عمل کو منظم رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر انتظامات کررہا ہے۔

جیلوں میں قیدی بھی ووٹ دیں گے

ریفرنڈم میں البرٹا کی جیلوں اور وفاقی اداروں میں موجود قیدیوں کے ووٹ ڈالنے کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔ ان افراد کے لیے بھی خصوصی بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔

ہنراہن کے مطابق اگر کسی قیدی کی ووٹ ڈالنے کی درخواست منظور ہوجائے تو Elections Alberta اس کا خصوصی بیلٹ پیکج متعلقہ ادارے کو بھیجے گا، جہاں ادارے کا انتخابی رابطہ افسر اسے قیدی تک پہنچائے گا۔

قیدی اپنا پتہ کیسے دیں گے؟

قیدی ووٹر رجسٹریشن کے لیے مختلف پتوں میں سے ایک استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ وہ پتہ درج کرسکتے ہیں جہاں وہ قید نہ ہونے کی صورت میں رہائش پذیر ہوتے، گرفتاری کے وقت کا پتہ یا اس عدالت کا پتہ جہاں انہیں سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں تیس لاکھ ووٹروں کا ذاتی ریکارڈ افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع

Elections Alberta یہ معلومات جاری نہیں کرتا کہ کتنے افراد ووٹ ڈال چکے ہیں، اس لیے ادارہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ موجودہ ریفرنڈم کے لیے کتنے قیدیوں نے بیلٹ کی درخواست دی ہے۔2023 کے عام انتخابات میں 413 قیدیوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے درخواست دی تھی۔

قیدیوں کا ووٹ کیوں اہم؟

البرٹا کی جان ہاورڈ سوسائٹی کے صدر کرس ہائے کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جانی چاہیے کیونکہ اس عمل کو معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کے عمل کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق ووٹ ڈالنا صرف ایک حق نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قیدیوں کو معاشرے کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مسلسل دور رکھا جائے تو ان میں معاشرے کا حصہ ہونے کا احساس کم ہوسکتا ہے۔

ہائے کے مطابق معاشرے سے تعلق کا احساس کمزور ہونے سے رہائی کے بعد دوبارہ جرائم کی طرف جانے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ریمانڈ سینٹرز کا مسئلہ

قیدیوں کے ووٹ سے متعلق ایک اہم مسئلہ ریمانڈ سینٹرز کا بھی ہے، جہاں ایسے افراد رکھے جاتے ہیں جنہیں ابھی کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔

ہائے کے مطابق ایسے ہزاروں افراد ہوسکتے ہیں جو ووٹنگ کے دن ریمانڈ میں ہونے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریمانڈ میں رہنے کا اوسط دورانیہ تقریباً 21 دن ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ریمانڈ سینٹرز کے اندر موبائل پولنگ اسٹیشن قائم کیے جاسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے اضافی عملہ اور انتظامی وسائل درکار ہوں گے۔

تاریخ کا سب سے بڑا ووٹنگ ایونٹ

19 اکتوبر کو ہونے والے البرٹا ریفرنڈم میں مجموعی طور پر 10 سوالات شامل ہیں۔ ان میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آیا البرٹا کینیڈا کا حصہ برقرار رہے یا کنفیڈریشن سے علیحدگی کے لیے دوسرا، پابند نوعیت کا ریفرنڈم کرایا جائے۔

ریفرنڈم میں سوالات کی بڑی تعداد اور ہر بیلٹ کو ہاتھ سے گننے کے صوبائی قوانین کے باعث اسے البرٹا کی تاریخ کا سب سے بڑا ووٹنگ ایونٹ قرار دیا جارہا ہے۔

60 ہزار انتخابی کارکن درکار

Elections Alberta کے مطابق اتنے بڑے انتخابی عمل کے لیے کم از کم 60 ہزار انتخابی کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔ اب تک تقریباً 48 ہزار افراد انتخابی عملے کا حصہ بننے کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔

ادارے کو خاص طور پر صوبے کے شمالی علاقوں میں مزید کارکنوں کی ضرورت ہے، جن میں فورٹ میک مرے، پیس ریور اور گرینڈ پریری سمیت متعدد انتخابی حلقے شامل ہیں۔

یوں ایک طرف ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی درخواستوں کی ریکارڈ تعداد سامنے آرہی ہے، تو دوسری جانب Elections Alberta کو عملے اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر انتظامات مکمل کرنا ہوں گے۔

ہمیں فالو کریں