اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلادیش کے ہاتھوں اپنی ہی سرزمین پر پہلی مرتبہ ٹیسٹ شکست نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
ڈارون ٹیسٹ میں بنگلادیش نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر جہاں تاریخ رقم کی وہیں میزبان ٹیم کی بیٹنگ اور ٹیم سلیکشن پر سابق کرکٹرز اور آسٹریلوی میڈیا نے بھی سخت تنقید شروع کردی ہے۔
بنگلادیش کے خلاف غیر متوقع شکست کو آسٹریلوی کرکٹ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ سابق کھلاڑیوں نے ٹیم کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلیکٹرز سے آئندہ سیریز کے لیے اہم فیصلے لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مارک وا نے شکست کو بڑا اپ سیٹ قرار دے دیا
سابق آسٹریلوی کرکٹر مارک وا نے بنگلادیش کے ہاتھوں شکست کو آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بیٹنگ مسلسل ناکام ہو تو سلیکٹرز کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
ڈارون ٹیسٹ بنگلادیش نے آسٹریلیا کو اپ سیٹ شکست دے دی
مارک وا کے مطابق آسٹریلوی ٹیم مکمل قوت کے ساتھ میدان میں اتری تھی اور اس کے باوجود بنگلادیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے نزدیک یہ نتیجہ معمولی ناکامی نہیں بلکہ آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔
ڈیوڈ وارنر نے بیٹنگ لائن اپ پر سوال اٹھا دیے
سابق آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر نے بھی ٹیم کی بیٹنگ کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا آسٹریلیا جنوبی افریقا کا دورہ اعتماد کے ساتھ کرسکتا ہے یا نہیں۔
ڈیوڈ وارنر کے مطابق جنوبی افریقا کا دورہ آسٹریلوی ٹیم کے لیے بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ وہاں کی بولنگ خاص طور پر تجربہ کار اور مضبوط ہے جس کے باعث آسٹریلیا کو اپنی بیٹنگ لائن اپ کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم میں تبدیلیوں کے حوالے سے سلیکٹرز کو مشاورت کرنا پڑے گی تاکہ آئندہ اہم سیریز کے لیے زیادہ مضبوط کمبی نیشن تیار کیا جاسکے۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ مسلسل سوالات کی زد میں
بنگلادیش کے خلاف ڈارون ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی بیٹنگ کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ میزبان ٹیم پہلی اننگز میں صرف 198 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی جبکہ دوسری اننگز میں 284 رنز بنانے کے باوجود میچ پر دباؤ قائم نہ رکھ سکی۔
اس کے برعکس بنگلادیش نے پہلی اننگز میں 426 رنز بنا کر 228 رنز کی بڑی برتری حاصل کی۔ یہی برتری میچ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی اور آسٹریلیا کو دوسری اننگز کے بعد بنگلادیش کے سامنے صرف 57 رنز کا ہدف رکھنا پڑا۔
بنگلادیشی ٹیم نے یہ ہدف صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرکے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔
جیک ویدرالڈ کے مستقبل پر سوالیہ نشان
آسٹریلوی میڈیا نے بھی شکست کے بعد ٹیم میں تبدیلیوں کے امکانات پر بحث شروع کردی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جیک ویدرالڈ کے مستقبل پر سوال اٹھائے جارہے ہیں جبکہ ٹریوس ہیڈ کو بطور اوپنر کھلانے کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ناکامی کو صرف بیٹرز تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ بولنگ کمبی نیشن بھی ٹیم کے لیے ایک مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے اور سلیکٹرز کو مجموعی ٹیم ساخت کا جائزہ لینا ہوگا۔
ٹیم میں تازہ خون شامل کرنے کا مطالبہ
آسٹریلوی میڈیا میں اس بات پر بھی زور دیا جارہا ہے کہ قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا وقت آچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی اسکواڈ کے بیشتر کھلاڑی 30 سال سے زائد عمر کے ہیں اور مستقبل کے لیے ٹیم میں تازہ خون شامل کرنا ضروری دکھائی دیتا ہے۔
سابق کرکٹرز اور ماہرین کے مطابق تجربہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط ٹیسٹ ٹیم بنانے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مواقع دینا ہوں گے۔
جنوبی افریقا کا دورہ آسٹریلیا کے لیے بڑا امتحان ہوگا
بنگلادیش کے خلاف شکست کے بعد آسٹریلیا کے آئندہ چیلنجز پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ ڈیوڈ وارنر نے خاص طور پر جنوبی افریقا کے دورے کو مشکل قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں :
ڈارون ٹیسٹ: مچل اسٹارک اور مہدی حسن کے درمیان تلخ جملوں کی ویڈیو وائرل
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا کے فاسٹ بولرز کا سامنا کرنا آسٹریلوی بیٹرز کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ایسے میں اگر بیٹنگ لائن اپ موجودہ فارم میں برقرار رہی تو آسٹریلیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
سلیکٹرز کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ موجودہ کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا جائے یا ناکامی کا سامنا کرنے والے بعض کھلاڑیوں کی جگہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے۔
بنگلادیش کی تاریخی فتح نے آسٹریلیا کی کمزوریاں ظاہر کردیں
ڈارون ٹیسٹ میں بنگلادیش کی کامیابی نے آسٹریلوی ٹیم کی کئی کمزوریاں نمایاں کردی ہیں۔ بنگلادیش نے نہ صرف پہلی اننگز میں آسٹریلیا کو 198 رنز پر محدود کیا بلکہ اپنی پہلی اننگز میں 426 رنز بنا کر میزبان ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
اس تاریخی شکست کے بعد آسٹریلیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی بیٹنگ کو مستحکم کرنا اور ٹیم کمبی نیشن میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ سابق کرکٹرز اور میڈیا کی جانب سے ہونے والی تنقید نے بھی واضح کردیا ہے کہ ڈارون ٹیسٹ کا نتیجہ صرف ایک میچ کی شکست نہیں سمجھا جارہا بلکہ اسے آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے اہم وارننگ قرار دیا جارہا ہے۔
