اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد پہلے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو عملی شکل دینا اور طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع، پابندیوں میں نرمی، اور اقتصادی تعاون جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت کرنا ہوگا۔ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، اور اس عمل میں ایرانی وفد کی قیادت ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔
ان کے مطابق ایران اس مذاکراتی مرحلے کو ایک اہم سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس کے ذریعے خطے میں کشیدگی میں کمی اور اقتصادی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو اس پورے مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
امریکی فریق کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مفاہمتی یادداشت عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈی، معیشت اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت عالمی برادری کی نظریں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں دونوں ممالک کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد کسی جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔