لڑکی کے پیٹ پر چھپا ٹرمپ کو جگانے کا ’بٹن‘، وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک دلچسپ ویڈیو نے صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ کے سونے پر ایک خاتون اپنی ناف میں موجود خفیہ بٹن دبا کر انہیں برقی جھٹکا دیتی ہیں اور یوں صدر دوبارہ بیدار ہوجاتے ہیں۔ تاہم حقیقت اس مزاحیہ دعوے سے بالکل مختلف نکلی۔

وائرل ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مبینہ طور پر سوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ان کے قریب ایک خاتون موجود ہیں۔

ویڈیو کے ساتھ مزاحیہ دعویٰ کیا گیا کہ جب ٹرمپ سو جاتے ہیں تو خاتون کو ایک اشارہ ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے پیٹ کی ابھری ہوئی ناف میں موجود ایک مبینہ بٹن دباتی ہیں، جس سے ٹرمپ کو برقی جھٹکا لگتا ہے اور وہ دوبارہ بیدار ہوجاتے ہیں۔

حقیقت میں ایسا کوئی بٹن موجود نہیں

فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا منظر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے جسے ایک پرانے سوشل میڈیا مذاق کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ پھیلایا جارہا ہے۔

ایسی کسی خفیہ ڈیوائس یا بٹن کا کوئی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں جسے دبا کر امریکی صدر کو جگایا جاتا ہو۔

’بٹن‘ کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟

اس مزاحیہ دعوے کی بنیاد ایک پرانی ویڈیو بنی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ایک شخص کی ناف غیر معمولی طور پر ابھری ہوئی دکھائی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

لائیو نشریات کے دوران نیوز اینکر سو گئیں، کیمرہ چلتا رہا، پھر کیا ہوا؟

اس منظر نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی اور لوگوں نے مذاقاً یہ کہنا شروع کردیا کہ اس شخص کے پیٹ پر کوئی خفیہ بٹن موجود ہے۔

رون گراف کی ابھری ہوئی ناف کا اصل معاملہ

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے پیچھے نظر آنے والا شخص رون گراف سینئر تھا جو اوہائیو کی ایک سپر مارکیٹ چین کے شریک مالک تھے۔

ان کی نمایاں ابھری ہوئی ناف کسی خفیہ ڈیوائس یا بٹن کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ طبی مسئلے کے باعث تھی۔ ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کے مطابق رون گراف کو ناف کے ہرنیا کی شکایت تھی جس کی وجہ سے ناف باہر کی جانب ابھری ہوئی دکھائی دیتی تھی۔

’دی زَیپر‘ نامی فرضی بٹن

اسی منظر کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ کہانی گھڑی گئی۔ صارفین نے مذاقاً کہنا شروع کردیا کہ ٹرمپ کے سونے یا آنکھیں بند کرنے کی صورت میں قریب موجود شخص رون گراف کی ابھری ہوئی ناف میں موجود مبینہ بٹن دبا دیتا ہے۔

کہانی میں اس فرضی بٹن کو ’دی زَیپر‘ کا نام بھی دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اسے دبانے سے ٹرمپ کو برقی جھٹکا لگتا ہے اور وہ دوبارہ جاگ جاتے ہیں۔

پرانے میم کو اے آئی ویڈیو میں تبدیل کردیا گیا

اب اسی پرانے مذاق کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نئی ویڈیو کے ذریعے دوبارہ سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

چاند کے گرد تاریخی سفر جاری،کینیڈین خلا باز کی براہِ راست گفتگو، بچوں کے سوالات کے دلچسپ جوابات

نئی ویڈیو میں رون گراف کی جگہ ایک خاتون کو دکھایا گیا اور اس کے پیٹ پر موجود مبینہ بٹن کو کہانی کا حصہ بنا کر ایسا تاثر دیا گیا کہ وہ بٹن دبا کر امریکی صدر کو جگاتی ہیں۔

وائرل دعویٰ بے بنیاد نکلا

فیکٹ چیک کے مطابق ٹرمپ کے قریب موجود خاتون کے پیٹ میں کسی خفیہ بٹن یا ڈیوائس کی موجودگی کا کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔ وائرل ویڈیو کو حقیقت سمجھنا گمراہ کن ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور ایک پرانے انٹرنیٹ میم کا امتزاج ہے۔

یوں ’ٹرمپ کو جگانے والے خفیہ بٹن‘ کی کہانی دراصل ایک پرانے مزاحیہ سوشل میڈیا مذاق سے نکلی، جسے نئی اے آئی ویڈیو کے ذریعے دوبارہ وائرل کردیا گیا۔

ہمیں فالو کریں