میجک مشروم سے ڈپریشن میں کمی لائی جا سکتی ہے ، نئی تحقیق

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کنگز کالج لندن کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ میجک مشروم میں موجود سائلو سائِبن کی ایک خوراک بعض ایسے افراد میں ڈپریشن کی علامات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جن پر پہلے کم از کم دو علاج مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔

علاج سے مزاحم ڈپریشن کے مریض تحقیق کا حصہ

تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا ڈپریشن کم از کم دو سابقہ علاج کے باوجود بہتر نہیں ہوا تھا۔ شرکا کو سائلو سائِبن کی ایک خوراک دینے کے ساتھ نفسیاتی معاونت بھی فراہم کی گئی۔

محققین نے علاج کے بعد شرکا میں ڈپریشن کی علامات اور مجموعی کیفیت کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سائلو سائِبن کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

10 میں سے تقریباً 4 افراد میں نمایاں بہتری

تحقیق کے نتائج کے مطابق بعض مریضوں میں ڈپریشن کی علامات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تقریباً 10 میں سے 4 شرکا میں علامات میں اتنی بہتری آئی کہ انہیں ختم ہونے کی سطح تک قرار دیا گیا۔

محققین کے مطابق نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ہر مریض میں یکساں اثرات سامنے آنا ضروری نہیں۔

علاج کا تجربہ بعض افراد کیلئے انتہائی جذباتی رہا

تحقیق میں شامل ایک شریک نے اپنے تجربے کو انتہائی جذباتی قرار دیا۔ اس کے مطابق سائلو سائِبن کے اثر کے دوران اسے اپنے مرحوم والد اور بہن کی ایک تصویر ذہن میں دکھائی دی۔

یہ بھی پڑھیں :

نئی نسل میں ذہانت میں کمی کا رجحان؟ ’’ریورس فلن ایفیکٹ‘‘ پر ماہرین کی نئی تحقیق

شریک کے مطابق اس تجربے نے اسے اپنے جذبات اور ڈپریشن کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دی۔ تاہم اس نے یہ بھی بتایا کہ تجربے کے کچھ لمحات انتہائی شدید اور تکلیف دہ تھے۔

مشکل تجربے کے باوجود مثبت اثر محسوس ہوا

تحقیق میں شامل فرد نے بتایا کہ اگرچہ یہ تجربہ مشکل اور بعض اوقات تکلیف دہ تھا، تاہم بعد میں اسے محسوس ہوا کہ اس عمل نے اسے اپنے جذبات کو سمجھنے اور محسوس کرنے میں مدد دی۔

محققین کے مطابق سائلو سائِبن کے ساتھ نفسیاتی معاونت کا مقصد صرف فوری علامات میں کمی نہیں بلکہ مریضوں کو اپنے جذبات اور ذہنی کیفیت پر غور کرنے میں مدد دینا بھی ہے۔

عام علاج کے طور پر استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری

کنگز کالج لندن کے مطابق سائلو سائِبن پر ہونے والی تحقیق کا مقصد خاص طور پر علاج سے مزاحم ڈپریشن کے لیے اس طریقہ علاج کی افادیت، حفاظت اور قابل عمل ہونے کا جائزہ لینا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں، لیکن سائلو سائِبن کو عام ڈپریشن کے علاج کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی طبی آزمائشوں کی ضرورت ہے۔

ممکنہ مضر اثرات کا بھی جائزہ ضروری

محققین کے مطابق مزید مطالعات میں سائلو سائِبن کے ممکنہ فوائد کے ساتھ اس کے مضر اثرات اور طویل مدتی اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

کنگز کالج لندن کی سابقہ تحقیق میں بھی سائلو سائِبن کے ساتھ نفسیاتی معاونت کے بعد ڈپریشن کی علامات میں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم ماہرین نے اس طریقہ علاج کے حوالے سے مزید سخت سائنسی مطالعات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

واضح رہے کہ سائلو سائِبن پر مبنی علاج کو عام ڈپریشن کے لیے خود سے استعمال کرنا محفوظ یا منظور شدہ طریقہ علاج نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس حوالے سے کسی بھی علاج کا فیصلہ مستند طبی ماہر کی نگرانی میں ہی کیا جانا چاہیے۔

ہمیں فالو کریں