امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کرگئی، نئے امریکی ٹیرف نافذ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان آخری لمحات میں تجارتی معاہدہ طے نہ پانے کے بعد امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر نئے اور بھاری ٹیرف نافذ کردیے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے محصولات ہفتے کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی روز سے جاری مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے مطابق امریکا نے کینیڈا کو بڑی برآمد کنندہ معیشتوں میں سب سے بہتر تجارتی سہولت دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم کینیڈا کی جانب سے آخری مرحلے میں نئی شرائط اور بعض سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے باعث مذاکرات کا توازن بگڑ گیا۔

کینیڈا کا مؤقف

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی مذاکرات ناکام ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے آخری لمحات میں تجویز کردہ شرائط غیر منصفانہ اور معاشی طور پر ناقابل قبول تھیں۔

مارک کارنی کے مطابق ان حالات میں امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کینیڈا کے مذاکرات کاروں کو واپس اوٹاوا پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کا ملک امریکی محصولات کا جواب دے گا اور نئے امریکی ٹیرف کے مقابلے میں کینیڈا بھی اپنی جانب سے اسی قدر محصولات عائد کرے گا تاکہ کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

50 فیصد تک ٹیرف

امریکی انتظامیہ کی نئی پالیسی کے تحت کینیڈا سے درآمد کی جانے والی سیکڑوں مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ان مصنوعات کی مجموعی مالیت 28 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

نئے محصولات کے دائرے میں لکڑی، پلائی ووڈ، سیمنٹ، شراب، ہاکی اسٹکس سمیت مختلف اشیا شامل ہیں۔ اس اقدام سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم مضبوط تجارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ماضی میں امریکا اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارتی انتظامات کے تحت متعدد مصنوعات کو نسبتاً کم ٹیرف یا مکمل استثنیٰ حاصل تھا، تاہم نئی امریکی پالیسی کے بعد کئی ایسی کینیڈین مصنوعات بھی اضافی محصولات کی زد میں آگئی ہیں جو کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے تجارتی معاہدے کی شرائط پر پوری اترتی تھیں۔

امریکی الزامات

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا نے امریکی تجارتی پالیسی کے جواب میں ایسے اقدامات کیے جن سے امریکی کاروباری شعبوں کو نقصان پہنچا۔

امریکی حکام بالخصوص کینیڈا کی جانب سے امریکی ڈیری، شراب اور آٹو موبائل شعبے سے متعلق پالیسیوں پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر پہلے ہی مختلف جوابی اقدامات کیے ہوئے ہیں، جن میں بعض امریکی اشیا اور خدمات پر پابندیاں اور اضافی محصولات بھی شامل ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی اشیا اور خدمات کے خلاف جوابی اقدامات جاری رہنا بھی مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے عوامل میں شامل تھا۔

کاروباری حلقوں میں تشویش

نئے امریکی ٹیرف کے اعلان نے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ کینیڈین چیمبر آف کامرس نے امریکی محصولات کو شمالی امریکا کی مسابقتی صلاحیت کے لیے شدید دھچکا قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا اور امریکا تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب، نئے ٹیرف مؤخر

کینیڈین کاروباری اداروں کے مطابق اتنے زیادہ محصولات کو طویل عرصے تک برداشت کرنا مشکل ہوگا اور اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت، اشیا کی قیمتوں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے سے انتہائی گہری جڑی ہوئی ہیں، اس لیے طویل تجارتی تنازع صرف ایک ملک کے کاروبار کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ دونوں جانب صنعتوں، صارفین اور ملازمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

الیکٹرانکس شعبہ متاثر

نئے امریکی ٹیرف سے کینیڈا کا الیکٹرانکس شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ کینیڈا سے امریکا برآمد ہونے والے ایسے الیکٹرانک آلات کی مالیت 4 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے جو نئے محصولات کی زد میں آئیں گے۔

بجلی کے مختلف بورڈز، کنٹرولرز اور دیگر برقی آلات بھی متاثرہ مصنوعات میں شامل ہیں۔ ان میں بعض ایسی مصنوعات بھی ہیں جو امریکا کو کینیڈا کی جانب سے برآمد کی جانے والی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی اشیا میں شمار ہوتی ہیں۔

پلاسٹک صنعت پر اثر

کینیڈا کی پلاسٹک صنعت بھی نئے امریکی ٹیرف سے شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ بوتلوں، فرش پر استعمال ہونے والی مصنوعات اور گھریلو استعمال کی مختلف اشیا سمیت تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کی مصنوعات نئے محصولات کے دائرے میں آتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجارتی پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں تو کینیڈین برآمد کنندگان کو امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر فروخت کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

تجارتی جنگ کا خدشہ

نئے امریکی ٹیرف کے بعد کینیڈا کی جانب سے بھی جوابی محصولات عائد کرنے کے اعلان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی خبردار کیا کہ اگر کینیڈا مزید جوابی اقدامات کرتا ہے تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس صورتحال میں شمالی امریکا کی سپلائی چین، صنعت، برآمدات اور صارفین کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکا اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات کی معطلی نے فوری طور پر کسی سمجھوتے کی امیدیں بھی کم کردی ہیں۔

یوں آخری لمحے تک جاری رہنے والی سفارتی اور تجارتی کوششوں کے باوجود معاہدہ نہ ہونے سے دونوں ممالک ایک بار پھر محصولات کی جوابی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں شمالی امریکا کی معیشت اور باہمی تجارت پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں