اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں ایک سکھ گردوارے میں صبح کی عبادت کے دوران ایک شخص نے مبینہ طور پر حملہ کرکے دو افراد کو زخمی کردیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً 5 بجے شہر کے شمال مشرقی علاقے میں واقع نانکسار گوردوارہ گرسکھ ٹیمپل میں پیش آیا، جہاں ایک شخص سکریو ڈرائیور سے مسلح ہو کر داخل ہوا۔
پولیس نے حملے کے الزام میں 27 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آسکے۔ ایڈمنٹن پولیس سروس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پولیس کا ہیٹ کرائمز یونٹ بھی واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
دو افراد زخمی
ایڈمنٹن پولیس کے قائم مقام انسپکٹر ایرک اسٹیورٹ کے مطابق پولیس کو گردوارے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ایک شخص کے سڑک پر ٹریفک کے درمیان چلنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق 27 سالہ مشتبہ شخص گردوارے میں داخل ہوا اور نماز کے کمرے میں جانے کی کوشش کی۔ اسی دوران اس نے وہاں موجود دو افراد پر حملہ کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گردوارے میں موجود افراد نے فوری طور پر مداخلت کی اور حملہ آور کو قابو کرلیا، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ زخمی ہونے والے دونوں افراد کی عمریں 75 اور 51 سال بتائی گئی ہیں۔
دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ایسی چوٹوں کا علاج فراہم کیا گیا جو جان لیوا نہیں تھیں۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص بھی واقعے کے دوران زخمی ہوا اور اسے بھی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مشتبہ شخص کا سابقہ ریکارڈ
پولیس کے مطابق زیرحراست شخص پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں تھا اور اس کا تشدد سے متعلق ایک اہم سابقہ ریکارڈ موجود ہے۔
ایرک اسٹیورٹ نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو واقعے سے صرف ایک روز قبل وفاقی ادارے سے رہا کیا گیا تھا۔ وہ سنگین حملے اور ایک پولیس افسر پر حملے کے جرم میں سزا کاٹ رہا تھا۔
پولیس کے مطابق رہائی کے بعد اسے ایڈمنٹن میں ایک مخصوص ہاف وے ہاؤس میں رپورٹ کرنا تھا، تاہم اس نے وہاں رپورٹ نہیں کیا۔ پولیس اب اس معاملے کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ وہ گردوارے کے علاقے تک کیسے پہنچا اور اپنی مقررہ رہائش گاہ پر کیوں موجود نہیں تھا۔
پولیس نے تاحال ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا کیونکہ اس کے خلاف باقاعدہ الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ممکنہ طور پر اس کے خلاف الزامات عائد کیے جائیں گے۔
پجاری اور رضاکار زخمی
نانکسار گوردوارہ گرسکھ ٹیمپل کے نائب صدر زورا گریوال نے بتایا کہ حملے کے وقت گردوارے کے اندر متعدد افراد موجود تھے اور صبح کی عبادات جاری تھیں۔
ان کے مطابق زخمی ہونے والے افراد عام عبادت گزار نہیں بلکہ ایک پجاری اور طویل عرصے سے گردوارے میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے بزرگ تھے۔
گریوال کے مطابق جب گردوارے میں موجود افراد نے مسلح شخص کو عمارت سے باہر نکالنے کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت کرتے ہوئے سکریو ڈرائیور سے پجاری پر متعدد وار کیے اور بعد ازاں بزرگ رضاکار کو بھی نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ دونوں زخمیوں کے صحت یاب ہونے کی امید ہے۔
مقدس کتاب محفوظ رہی
ابتدائی اطلاعات میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ حملے کے دوران سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب کو نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم گردوارہ انتظامیہ نے بعد میں واضح کیا کہ کسی مقدس متن کو نقصان نہیں پہنچا۔
گریوال نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید صدمہ پہنچا کہ حملے کا مبینہ ملزم صرف ایک روز قبل وفاقی تحویل سے رہا ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایسے افراد کی رہائی کے نظام کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیلگری میں دن دیہاڑے فائرنگ، پولیس افسر زخمی، ملزم کی لاش دریائے بو سے مل گئی
انہوں نے کہا کہ گردوارے کے دروازے عوام کے لیے کھلے رہتے ہیں اور یہ جگہ امن، عبادت اور ذہنی سکون کے لیے ہے۔ انتظامیہ ہفتے کے اختتام پر اجلاس کرے گی جس میں مستقبل میں سکیورٹی مزید سخت کرنے سمیت مختلف اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
سکھ برادری میں تشویش
ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا کے صدر دانش سنگھ نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں سکھ برادری کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات میں اضافے کے تناظر میں یہ حملہ انتہائی پریشان کن ہے۔
انہوں نے کینیڈا بھر کے گردواروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیں، انہیں مزید مضبوط کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکھ برادری خوف کو اپنی زندگیوں پر حاوی نہیں ہونے دے گی۔
البرٹا میں حالیہ دھمکیاں
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب البرٹا میں سکھ مذہبی مقامات کو حالیہ دنوں میں دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔کیلگری پولیس کے مطابق 15 اگست کو شہر کے شمال مشرقی علاقے میں واقع دو سکھ مندروں کو ایک ہی فون نمبر سے تشویشناک دھمکی آمیز کالز موصول ہوئی تھیں۔ پولیس دونوں گردواروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس وقت کمیونٹی کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں سمجھا جا رہا۔
ایڈمنٹن کا نانکسار گوردوارہ تقریباً 30 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ حملے کے بعد جمعہ کی صبح اسے عارضی طور پر عوام کے لیے بند کردیا گیا تاکہ پولیس کو تحقیقات میں سہولت فراہم کی جاسکے۔
حکومتی شخصیات کا اظہارِ تشویش
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے حالیہ دنوں میں سکھ برادری کے خلاف رپورٹ ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی کمیونٹی اور عبادت گاہ میں محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ ضمانت اور پیرول کے قوانین میں اصلاحات کو سنجیدگی سے لیا جائے تاکہ خطرناک مجرمان کی رہائی سے متعلق نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے بھی زخمی افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈمنٹن پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی عبادت گاہ میں خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
البرٹا کی اپوزیشن کے رہنما ناہد ننشی نے بھی واقعے کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ کے اندر ہونے والا تشدد پوری کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں اور یہ بھی طے کیا جانا چاہیے کہ آیا حملہ نفرت پر مبنی جرم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
تحقیقات جاری
پولیس نے واضح کیا ہے کہ حملے کے اصل محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ہیٹ کرائمز یونٹ بھی معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔ فی الحال پولیس نے واقعے کو نفرت پر مبنی جرم قرار نہیں دیا۔
حالیہ حملے اور اس سے قبل سکھ مذہبی مقامات کو ملنے والی دھمکیوں نے کینیڈا میں سکھ برادری کے تحفظ اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ ایڈمنٹن گردوارے میں ہونے والے حملے کے پیچھے اصل محرک کیا تھا اور ملزم کے خلاف کون سے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
