ایران کی بحری ناکہ بندی کی امریکی دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے گزشتہ روز قیمتوں میں آنے والی نمایاں کمی کے بعد ایک بار پھر عالمی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا۔

عالمی سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خصوصاً ایران کے خلاف امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات یا بحری تجارت طویل عرصے تک متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔

برینٹ کی قیمت میں اضافہ

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 9 سینٹ یعنی 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد برینٹ خام تیل 87.16 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

برینٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے اہم بینچ مارکس میں شمار ہوتا ہے اور اس کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی عالمی توانائی کی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا، برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں بڑی کمی

تازہ اضافے سے قبل برینٹ کی قیمت میں گزشتہ سیشن کے دوران 2 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم ایران سے متعلق تازہ صورتحال نے سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کی جانب مبذول کرا دی ہے۔

ڈبلیو ٹی آئی بھی مہنگا

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ ہوا۔رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 4 سینٹ بڑھ کر 81.29 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ یوں عالمی تیل مارکیٹ کے دونوں بڑے بینچ مارکس میں معمولی تیزی دیکھی گئی۔

گزشتہ روز برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ مسلسل کئی سیشنز کی تیزی کے بعد مارکیٹ میں کچھ دباؤ کم ہورہا ہے۔

مسلسل تیزی کے بعد کمی

تازہ صورتحال سے پہلے برینٹ کی قیمت میں مسلسل 6 سیشنز تک اضافہ ہوا تھا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت مسلسل 5 سیشنز تک بڑھتی رہی۔

اس مسلسل اضافے کے بعد گزشتہ سیشن میں دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ میں اس کمی کی ایک وجہ عالمی سطح پر تیل کی طلب کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات تھے۔

تاہم ایران سے متعلق امریکی اقدامات نے ایک مرتبہ پھر سپلائی کے خدشات کو نمایاں کردیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں معمولی تیزی واپس آئی۔

ایران اور آبنائے ہرمز

عالمی تیل مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور عالمی تیل کی تجارت کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس راستے سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں سپلائی کا توازن متاثر ہوسکتا ہے۔

ایران کی بحری تجارت اور تیل کی برآمدات میں طویل رکاوٹ کا خدشہ سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکا کی دھمکی کا اثر

ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق امریکی دھمکی نے عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کی بحری سرگرمیوں، تیل کی برآمدات یا خطے سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتوں پر فوری دباؤ آسکتا ہے۔

یہ خدشات اس وقت مزید اہم ہوگئے ہیں جب عالمی مارکیٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی صورتحال، طلب میں ممکنہ کمی اور مستقبل میں توانائی کی دستیابی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہی ہے۔

طلب میں کمی کا خدشہ

دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمزوری کے خدشات بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ گزشتہ سیشن میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے پیچھے یہی خدشات اہم عوامل میں شامل تھے۔

اگر عالمی معیشت کی رفتار سست پڑتی ہے تو صنعتی سرگرمیوں، سفری شعبے اور دیگر توانائی استعمال کرنے والے شعبوں میں تیل کی طلب متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی لیے عالمی منڈی میں اس وقت دو مختلف عوامل ایک دوسرے کے مقابل موجود ہیں۔ ایک طرف ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق سپلائی کے خدشات قیمتیں اوپر لے جانے کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کمزور عالمی طلب قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

ہفتہ وار قیمتوں میں اضافہ

روزانہ کی بنیاد پر معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتیں رواں ہفتے مجموعی طور پر تقریباً 4 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں گزشتہ چند دنوں کے دوران مجموعی طور پر تیزی کا رجحان برقرار رہا ہے، اگرچہ درمیان میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔

ماہرین اور سرمایہ کار اب ایران سے متعلق امریکی پالیسی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی طلب کے نئے اندازوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

مارکیٹ کی نظریں ایران پر

عالمی تیل مارکیٹ میں آنے والے دنوں کے دوران قیمتوں کا رخ بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوسکتا ہے کہ ایران سے متعلق کشیدگی کس سمت جاتی ہے۔

اگر بحری تجارت اور تیل کی برآمدات معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں تو سپلائی کے خدشات کم ہوسکتے ہیں اور قیمتوں پر طلب سے متعلق عوامل دوبارہ حاوی ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر ایران کی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی یا آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جاسکتی ہیں۔

فی الحال برینٹ 87.16 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 81.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہیں، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں مزید پیش رفت کے منتظر ہیں۔

ہمیں فالو کریں