اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ائیڈے نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں دہشتگردی، غیرقانونی امیگریشن، پولیس ٹریننگ، باہمی قانونی معاونت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں افغانستان کی صورتحال، وہاں موجود کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں اور خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
افغانستان کی صورتحال
ملاقات میں افغانستان کی صورتحال خصوصی طور پر زیر بحث آئی۔ فریقین نے افغانستان میں موجود کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان سے خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف خود بڑے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے بلکہ دنیا اور دہشتگردی کے درمیان دیوار بن کر کھڑا ہے۔
محسن نقوی نے زور دیا کہ دہشتگردی کے مکمل سدباب کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
غیرقانونی امیگریشن
ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن کا معاملہ بھی اہم موضوع رہا۔ محسن نقوی نے ناروے کے وزیر خارجہ کو پاکستان کی جانب سے غیرقانونی امیگریشن کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیرقانونی امیگریشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق پاکستان کے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں یورپ میں غیرقانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین نے بھی پاکستان کے ان اقدامات کو سراہا ہے۔
قانونی امیگریشن کا فروغ
محسن نقوی نے کہا کہ غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے صرف سخت اقدامات کافی نہیں بلکہ قانونی امیگریشن کے مواقع کو فروغ دینا بھی انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر مقاصد کے لیے قانونی راستے فراہم کیے جائیں تو غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے کے رجحان میں مزید کمی لائی جاسکتی ہے۔پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان قانونی امیگریشن کے مواقع بڑھانے کو باہمی تعاون کا اہم شعبہ قرار دیا گیا۔
پولیس ٹریننگ
ملاقات میں پولیس ٹریننگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔فریقین نے دہشتگردی، جرائم اور دیگر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پولیس کی تربیت، جدید طریقہ کار اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں :کیلگری میں طلبہ کا احتجاج، 12 افراد کی امیگریشن حیثیت مشکوک قرار، کینیڈا سے بے دخلی کا خدشہ
قانونی معاونت
پاکستان اور ناروے نے باہمی قانونی معاونت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جرائم اور دہشتگردی سے متعلق معاملات میں مؤثر قانونی تعاون دونوں ممالک کے لیے اہم ہے۔ باہمی قانونی معاونت کے ذریعے مختلف قانونی اور تفتیشی امور میں تعاون کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
پاک امریکا ایران کردار
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ائیڈے نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے تعمیری اور فعال کردار کو سراہا۔
ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ناروے کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہنا اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے سفارتی کوششوں کو اہم سمجھا جارہا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کا کردار
ناروے کے وزیر خارجہ نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو بھی سراہا۔ایسپن بارتھ ائیڈے نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی ناروے کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کررہی ہے اور سیاست، صحت اور دیگر شعبوں میں اس کی خدمات اہم ہیں۔انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور باہمی تعلقات مضبوط بنانے میں اہم پل قرار دیا۔
دوطرفہ تعاون پر زور
ملاقات میں پاکستان اور ناروے کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
دہشتگردی کے خلاف اقدامات، غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام، قانونی امیگریشن کے فروغ، پولیس کی تربیت اور قانونی معاونت جیسے شعبوں کو باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطوں اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اعلیٰ حکام کی شرکت
ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
