اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، تاہم اوٹاوا کو خدشہ ہے کہ بدھ سے کینیڈین مصنوعات پر عائد ہونے والی نئی امریکی ٹیرف پابندیوں کو روکنے کے لیے بروقت معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
کینیڈین حکام ایک جانب موجودہ شعبہ جاتی ٹیرف میں کمی کے لیے واشنگٹن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب صوبوں کو امریکی شراب کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
مذاکرات میں تیزی
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ تیسری ملاقات تھی۔ ورچوئل ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان زیر التوا تجارتی معاملات پر بات چیت کی گئی۔
اوٹاوا گزشتہ کئی ہفتوں سے واشنگٹن کے ساتھ ایک جامع تجارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت نئی امریکی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اسٹیل، ایلومینیم، آٹو اور لکڑی کی صنعتوں پر پہلے سے عائد ٹیرف میں بھی کمی حاصل کی جاسکے۔
نئے 50 فیصد ٹیرف کا خطرہ
امریکی انتظامیہ نے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کا نفاذ بدھ سے متوقع ہے۔ یہ کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی مجموعی برآمدات کا تقریباً پانچ فیصد بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا چین پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی کا الزام، بیجنگ نے مسترد کردیا
کینیڈا کی کوشش ہے کہ امریکا نہ صرف ان نئے ٹیرف کو واپس لے بلکہ اسٹیل اور ایلومینیم پر موجود 50 فیصد اور گاڑیوں پر عائد 25 فیصد ٹیرف میں بھی نمایاں کمی کرے۔ تاہم مذاکرات میں اب تک ان شعبہ جاتی ٹیرف پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
امریکی شراب بڑا مسئلہ
مذاکرات میں امریکی شراب کی کینیڈا میں دوبارہ فروخت بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ امریکی حکومت نے مختلف کینیڈین صوبوں کی جانب سے امریکی شراب کی فروخت روکنے کو مذاکرات میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
اوٹاوا نے صوبوں کو واضح کیا ہے کہ جامع معاہدہ طے پانے کی صورت میں امریکی شراب کو دوبارہ دکانوں پر لانا ہوگا، لیکن اس معاملے میں وفاقی حکومت کو صوبوں کی رضامندی درکار ہے کیونکہ پابندیاں صوبائی سطح پر عائد کی گئی تھیں۔
صرف البرٹا اور سسکیچیوان نے امریکی شراب کی فروخت بحال کی ہے، جبکہ کئی دیگر صوبے اب بھی پابندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی شراب کی فروخت اسی صورت بحال کریں گے جب معاہدہ اسٹیل، آٹو، جنگلات، زراعت اور مینوفیکچرنگ سمیت اہم شعبوں کے تحفظ کی ضمانت دے۔
ڈیری سیکٹر بھی تنازع کی زد میں
امریکا اور کینیڈا کے درمیان ڈیری مصنوعات کی تجارت بھی مذاکرات میں اہم تنازع بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ کینیڈا امریکی ڈیری مصنوعات کو اپنی منڈی تک مناسب رسائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب کیوبک کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کیوبک حکومت کے مطابق ڈیری شعبہ صوبے کے لیے ایک اہم معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی رعایت کو انتہائی حساس سمجھا جائے گا۔
لکڑی کی صنعت پر اختلاف
برٹش کولمبیا بھی ممکنہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے اپنے مطالبات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ کینیڈین سافٹ وڈ لمبر پر امریکی ٹیرف میں کمی کو جامع معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔
برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے امریکی شراب کی پابندی ختم کرنے کو لکڑی کی صنعت پر ریلیف سے مشروط کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کی سافٹ وڈ لمبر صنعت براہ راست امریکی ٹیرف کی زد میں ہے اور اسے کسی بھی جامع تجارتی معاہدے میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق امریکی تجویز میں لکڑی کے شعبے کے ٹیرف میں کوئی نمایاں کمی شامل نہیں۔ واشنگٹن لکڑی کے معاملے کو الگ سے حل کرنا چاہتا ہے، جبکہ برٹش کولمبیا اسے وسیع تر تجارتی معاہدے کا حصہ بنانے پر زور دے رہا ہے۔
معاہدہ نہ ہوا تو دباؤ بڑھے گا
موجودہ صورتحال نے کینیڈین حکومت کو ایک مشکل پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔ اوٹاوا کو امریکا سے ٹیرف میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے صوبوں سے امریکی شراب، ڈیری مصنوعات اور دیگر تجارتی معاملات پر رعایت دلوانا ہوگی، لیکن صوبے اپنے صنعتی مفادات کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔
برٹش کولمبیا اور کیوبک کے لیے صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ نئے امریکی ٹیرف نافذ ہونے کی صورت میں ان صوبوں کی بالترتیب تقریباً 13 اور 10 فیصد برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔ مذاکرات میں اگر بدھ کی ڈیڈ لائن سے پہلے اتفاق رائے نہ ہوا تو کینیڈا کی معیشت کے اہم شعبوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور اوٹاوا کو امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مزید سیاسی اور معاشی رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔
