ٹرمپ نے کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف تین دن کے لیے مؤخر کر دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر عائد کیے جانے والے 50 فیصد نئے ٹیرف کے نفاذ کو تین دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نئے محصولات کے نفاذ میں دو گھنٹے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے آن لائن بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم معاہدے کی دستاویزات کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔

ٹرمپ کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف میں تاخیر اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان معاہدہ ہوچکا ہے، جسے جلد حتمی شکل دی جائے گی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کینیڈین مذاکرات کاروں نے ان تجارتی معاملات پر رعایت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے نئے ٹیرف کی وجہ قرار دیا تھا۔

تاہم کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر کے برعکس کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اہم امور پر اب بھی کام کرنا باقی ہے۔

کارنی کا محتاط مؤقف

مارک کارنی نے اپنے بیان میں امریکی فیصلے کو ٹیرف کے نفاذ میں عارضی تاخیر قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق کینیڈا اس دوران اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط، خودمختار اور مسابقتی بنانے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

کینیڈین حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے تجارتی نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم کارنی نے بھی منگل سے ایک روز قبل اور منگل کو صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔

اربوں ڈالر کی تجارت متاثر

امریکی ٹیرف کا اطلاق بدھ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر ہونا تھا۔ نئے محصولات کے دائرے میں سینکڑوں کینیڈین مصنوعات شامل تھیں، جن کی مجموعی مالیت 28 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

ان مصنوعات میں پلائی ووڈ، سیمنٹ، شراب، ہاکی اسٹکس اور دیگر صنعتی و صارفین کی اشیا شامل ہیں۔ کاروباری حلقوں کو خدشہ تھا کہ 50 فیصد ٹیرف دونوں ممالک میں سپلائی چین کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباروں کے اخراجات اور عام صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا اور امریکا میں تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ،ٹیرف سے بچنے کی کوشش تیز

تین روز کی مہلت سے دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کو کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس عرصے کے بعد ٹیرف مستقل طور پر ختم کیے جائیں گے یا دوبارہ نافذ ہوسکتے ہیں۔

مذاکرات میں اہم نکات

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکی مصنوعات کے لیے جامع مارکیٹ رسائی، اقتصادی سلامتی سے متعلق وعدے اور ڈیجیٹل تجارت کے حوالے سے ہم آہنگی سمیت متعدد امور شامل ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کی جانب سے امریکی حکومت سے نئے سیکشن 338 ٹیرف ختم کرنے اور اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی جیسی صنعتی مصنوعات پر پہلے سے موجود سیکشن 232 ٹیرف میں کمی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

مذاکرات میں امریکی شراب کی کینیڈا کے صوبائی سرکاری اسٹورز میں دوبارہ فروخت، امریکی گاڑیوں پر کینیڈا کے جوابی ٹیرف کے خاتمے اور کینیڈا کے ڈیری سیکٹر میں کوٹے کے نظام میں تبدیلی جیسے معاملات بھی اہم رہے۔

آٹو سیکٹر پر اختلاف

مذاکرات کے آخری مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان کینیڈین گاڑیوں پر عائد کیے جانے والے ممکنہ ٹیرف کے حوالے سے اختلاف برقرار تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ان نکات میں شامل تھا جن پر آخری وقت تک بات چیت جاری رہی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کے خلاف ٹیرف کو گزشتہ سال شروع ہونے والی تجارتی کشیدگی کے تسلسل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ کینیڈا نے بھی امریکی اقدامات کے جواب میں بعض امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے تھے۔

کی اسٹون ایکس ایل کا معاملہ

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کی اسٹون ایکس ایل پائپ لائن منصوبے کا بھی ذکر کیا اور عندیہ دیا کہ یہ منصوبہ دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ البرٹا سے تیل امریکا کے خلیجی ساحلی علاقوں میں قائم ریفائنریوں تک پہنچانے کے لیے تجویز کیا گیا تھا، تاہم سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2021 میں اسے منسوخ کردیا تھا۔

تجارتی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات ابھی طے طلب ہیں۔ تین روز کی مہلت کو مذاکرات کے لیے اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مستقل تجارتی حل کے لیے امریکا اور کینیڈا کو مزید مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

ہمیں فالو کریں