اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی کے خلاف قانونی محاذ کھل گیا ہے۔ 25 ڈیموکریٹک قیادت والی ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے حالیہ درآمدی ٹیرف کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ریاستوں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے نئے محصولات نافذ کرتے وقت اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا اور تجارتی قوانین کا غلط استعمال کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں دائر کیا گیا ہے۔درخواست گزار ریاستوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً 60 تجارتی شراکت دار ممالک اور یورپی یونین سے آنے والی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کیے ہیں، جن سے کاروبار، صارفین اور ریاستی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ریاستوں کا قانونی اعتراض
ڈیموکریٹک ریاستوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ نئے ٹیرف دراصل ان پرانے محصولات کی جگہ لینے کی کوشش ہیں جنہیں امریکی سپریم کورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مارک کارنی کا برطانوی وزیر اعظم سے رابطہ،ٹرمپ ٹیرف کے جواب میں تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم
ریاستوں کے مطابق وفاقی حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جو آئینی اور قانونی حدود سے باہر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تجارتی پالیسی میں اس نوعیت کی تبدیلیوں کے لیے واضح قانونی اختیار ضروری ہے، جبکہ موجودہ اقدامات اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا دفاع
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے نئے ٹیرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات مکمل طور پر قانونی ہیں۔مت کا مؤقف ہے کہ محصولات 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی شق 301 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے امریکہ کو غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔انتظامیہ کے مطابق ان ٹیرف کا مقصد ایسی مصنوعات کے خلاف اقدامات کرنا ہے جو مبینہ طور پر جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔
تجارتی جنگ کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے معاملے پر قانونی جنگ امریکہ کی تجارتی پالیسی میں مزید غیر یقینی پیدا کر سکتی ہے۔اگر عدالت نے ریاستوں کے مؤقف کو تسلیم کیا تو ٹرمپ انتظامیہ کی درآمدی پالیسی کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، جبکہ حکومت کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں نئے محصولات برقرار رہ سکتے ہیں۔
معیشت پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق درآمدی ٹیرف کے اثرات صرف حکومت اور ریاستوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام صارفین، درآمد کنندگان اور کاروباری اداروں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اضافی محصولات سے بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات امریکی صنعت اور روزگار کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
سیاسی اختلاف مزید گہرا
ٹیرف کا معاملہ امریکہ میں جاری سیاسی کشمکش کا بھی حصہ بن گیا ہے۔ ڈیموکریٹک قیادت والی ریاستیں اسے اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کر رہی ہیں، جبکہ ریپبلکن انتظامیہ اسے قومی مفادات اور تجارتی تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔اب نظریں امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے فیصلے پر ہیں، جو طے کرے گی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ٹیرف قانونی دائرے میں ہیں یا نہیں۔