اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو صاف، شفاف اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی نظام اور 1973 کا آئین ملک کے مسائل کا حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ فی الحال حکومتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
ن لیگ حکومت بنانے کی پوزیشن میں
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں اور حکومتی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں کسی اتحاد کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔
انتخابات شفاف ہوئے، اعتراضات مسترد
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوئے۔انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی دوسرے مرحلے کے انتخابات میں بھی مبینہ پروپیگنڈے کے ساتھ میدان میں اتری، تاہم نتائج سامنے آنے کے بعد حقائق واضح ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی معلوم ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں اور امید ہے کہ تیسرے مرحلے کے بعد پیپلز پارٹی انتخابی نتائج کو تسلیم کر لے گی۔
یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر انتخابات،ن لیگ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی، رانا ثناء اللہ کا دعویٰ
مزید کامیابی کی امید
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے اگلے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہونے کی امید ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ باقی نشستوں میں بھی پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہے اور عوامی مینڈیٹ مسلم لیگ (ن) کے حق میں آئے گا۔
نئے صوبوں کی بات ایجنڈے پر نہیں
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کسی اجلاس میں نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق کوئی معاملہ اس وقت حکومتی ایجنڈے پر موجود نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس بنانے میں نہیں بلکہ موجودہ نظام کو بہتر انداز میں چلانے میں ہے۔
آئین اور نظام پر اعتماد
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پارلیمانی جمہوری نظام اور 1973 کا آئین ملک کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سنبھالے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک نے مختلف بحرانوں، مارشل لا اور آمریت کے ادوار دیکھے، لیکن آئین نے وفاق کو متحد رکھا۔ان کے مطابق مسئلہ نظام میں نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد میں ہے۔
خامی نظام میں نہیں، عمل میں ہے
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر آئین اور قانون پر مکمل دیانت داری سے عمل کیا جائے تو یہی نظام ملک کو ترقی دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئین کی خلاف ورزی کی جائے اور اداروں کو اپنی حدود میں کام نہ کرنے دیا جائے تو کوئی بھی نظام مؤثر نتائج نہیں دے سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہی آئینی نظام گزشتہ 50 سے 60 سال سے ملک کو چلا رہا ہے اور مستقبل میں بھی کامیابی سے چل سکتا ہے۔