اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بڑے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا منصوبہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر مشکل صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے، جہاں عوامی اجلاس کے دوران ٹیکنالوجی وزیر نیٹ گلبش کو شدید تنقید، سخت سوالات اور غصے کا سامنا کرنا پڑا۔
جمعرات کو ایڈمنٹن کے شمال میں واقع ریڈ واٹر، اسٹرجن کاؤنٹی میں منعقد ہونے والے ٹاؤن ہال اجلاس میں شہریوں نے صوبائی حکومت کی پالیسی پر کھل کر اعتراضات کیے۔ بعض شرکا نے وزیر سے خطاب کے دوران نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے جبکہ کئی افراد نے ان کی گفتگو کے دوران مداخلت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔یہ البرٹا حکومت کی جانب سے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں پر عوامی مشاورت کے سلسلے کا دوسرا ٹاؤن ہال اجلاس تھا۔
میٹا کا بڑا منصوبہ
عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ علاقے میں ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی جانب سے مجوزہ بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے کو قرار دیا جارہا ہے۔
میٹا نے گزشتہ ماہ اسٹرجن کاؤنٹی کے علاقے میں تقریباً 13 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کے اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کو بجلی فراہم کرنے کے لیے تقریباً 4.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کا قدرتی گیس سے چلنے والا پاور پلانٹ بھی تعمیر کیا جانا ہے۔
حکومت اس منصوبے کو ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے اہم موقع قرار دے رہی ہے، تاہم مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ اس بڑے منصوبے کے نتیجے میں پانی، زمین اور بجلی جیسے مقامی وسائل پر غیر معمولی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
حکومت پر عدم اعتماد
ٹاؤن ہال میں شہریوں کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید حکومتی شفافیت اور منصوبے کی نگرانی کے طریقہ کار پر کی گئی۔اسٹرجن کاؤنٹی کی رہائشی کونی شیلڈز نے کہا کہ انہیں اعتماد نہیں کہ صوبائی حکومت ایسے منصوبوں کو مناسب انداز میں ریگولیٹ کرسکے گی۔
انہوں نے وزیر سے کہا کہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نمائندہ ہے اور اسے شہریوں کے خدشات اور مطالبات کو سننا چاہیے، نہ کہ اپنی مرضی سے قواعد طے کرکے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا منصوبہ کہاں تعمیر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں اے آئی انقلاب کی تیاری، ڈیٹا سینٹرز کے لیے حکومت نے بڑے منصوبے کا اعلان کردیا
ایک اور خاتون نے سوال اٹھایا کہ اگر مقامی آبادی اس منصوبے کو نہیں چاہتی تو صوبائی حکومت اسے آگے کیوں بڑھا رہی ہے۔ ان کے سوال پر ہال میں موجود متعدد افراد نے بھرپور تالیاں بجائیں، اگرچہ اجلاس کے منتظم نے نشاندہی کی کہ تمام شرکا اس موقف سے متفق نہیں تھے۔
30 سال پرانی زوننگ کا حوالہ
عوام کے سخت سوالات کے جواب میں ٹیکنالوجی وزیر نیٹ گلبش نے کہا کہ جس علاقے میں منصوبہ تجویز کیا گیا ہے، وہاں اس نوعیت کی تعمیرات کے لیے زوننگ تین دہائیوں سے موجود ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اب وہ منصوبہ عملی شکل اختیار کررہا ہے جس کے لیے علاقہ پہلے ہی زون کیا جاچکا تھا۔
تاہم وزیر کے جواب پر بھی بعض شرکا نے احتجاج کیا اور مزید وضاحتیں طلب کیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ محض زوننگ موجود ہونے کی بنیاد پر اتنے بڑے منصوبے کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
روزگار پر حکومت کا مؤقف
اجلاس کے دوران مقامی روزگار بھی اہم بحث کا موضوع رہا۔ بعض شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنا بڑا منصوبہ تعمیر کیا جاتا ہے تو مقامی لوگوں کو اس سے حقیقی طور پر کتنے روزگار کے مواقع ملیں گے۔
وزیر گلبش نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میٹا کا منصوبہ براہ راست ملازمتوں کے علاوہ بالواسطہ معاشی فوائد بھی پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک طرف 300 ملازمتیں ہوں اور دوسری طرف کوئی ملازمت نہ ہو تو وہ 300 ملازمتوں کو ترجیح دیں گے۔
وزیر کے اس مؤقف پر بھی بعض شرکا مطمئن نظر نہیں آئے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے حجم کے مقابلے میں ملازمتوں کی تعداد اور مقامی وسائل کے ممکنہ استعمال کے درمیان توازن واضح کیا جانا چاہیے۔
پانی اور بجلی کے خدشات
مقامی آبادی نے خاص طور پر پانی، زمین اور بجلی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بجلی اور دیگر وسائل مقامی ضروریات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں بڑی تعداد میں سرورز اور جدید کمپیوٹنگ آلات استعمال ہوتے ہیں، جن کے لیے مسلسل بجلی اور کولنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے مقامی سطح پر وسائل کے استعمال اور انفراسٹرکچر پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ کو لے کر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
حکومت کی ساکھ پر سوالات
اجلاس کے دوران صوبائی حکومت کی مجموعی ساکھ بھی تنقید کی زد میں رہی۔ ایک شہری نے البرٹا کی یونائیٹڈ کنزرویٹو حکومت کی جانب سے کینیڈین چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز میں موجود بعض حقوق کو اوور رائیڈ کرنے کے لیے نان اوبستانٹئنگ کلاز کے استعمال پر بھی اعتراض کیا۔
اس شخص نے حکومتی فیصلے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ ایسے اقدامات کے بعد البرٹا کے عوام حکومت پر اعتماد کیسے کریں۔
وزیر گلبش نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ شہری حکومت کے بارے میں اتنا منفی تاثر رکھتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ڈیٹا سینٹرز کی ترقی ذمہ دارانہ انداز میں ہو۔
لگاتار دوسرے روز احتجاج
ریڈ واٹر کا اجلاس ایسا پہلا موقع نہیں تھا جب وزیر کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے ایک روز قبل البرٹا کے وسطی علاقے میں واقع شہر لیکومب میں ہونے والے ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران بھی گلبش کو شہریوں کی جانب سے نعروں، سوالات، طنزیہ جملوں اور بوؤز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مسلسل دو عوامی اجلاسوں میں ہونے والی سخت مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ البرٹا میں محض ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا موضوع نہیں رہا بلکہ یہ پانی، توانائی، ماحولیات، روزگار، حکومتی شفافیت اور مقامی آبادی کے اعتماد سے جڑا ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
حکومت سرمایہ کاری کے حق میں
البرٹا حکومت کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور اگر صوبہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو یہ مواقع دوسرے علاقوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔
گلبش کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کی عالمی سطح پر تعمیر اور توسیع کو روکا نہیں جاسکتا، اس لیے البرٹا کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کاری، روزگار اور نجی شعبے کی جانب سے بجلی کی پیداوار میں ہونے والی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائے۔
تاہم مقامی شہری حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ بڑے منصوبوں کی منظوری سے قبل ان کے طویل مدتی اثرات، وسائل کی دستیابی، ماحولیات، مقامی آبادی کی ضروریات اور روزگار کے حقیقی فوائد کے بارے میں واضح ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
یوں البرٹا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں پر حکومت اور مقامی آبادی کے درمیان اختلاف مزید نمایاں ہوگیا ہے، جبکہ آنے والے ٹاؤن ہال اجلاس اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کہ حکومت عوام کے تحفظات کو کس حد تک دور کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
