کارنی اقوام متحدہ اجلاس میں شریک ہوں گے، امریکا سے کشیدگی کے دوران اہم سفارتی سرگرمیاں

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کثیر ملکی عالمی نظام میں تبدیلیوں کی کوششوں کے باعث اجلاس کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

مارک کارنی پیر سے بدھ تک نیویارک میں موجود رہیں گے، تاہم وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب نہیں کریں گے۔ کینیڈین حکام کے مطابق وزیراعظم اس دوران مختلف عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور اقوام متحدہ سے متعلق متعدد اہم تقریبات میں شرکت کریں گے۔

عالمی نظام میں تبدیلی

مارک کارنی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا اب کینیڈا کو مختلف انداز سے دیکھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب عالمی نظام دوبارہ تشکیل پا رہا ہے، کینیڈا اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کینیڈا پرانے اور نئے شراکت داروں کے ساتھ بیٹھے گا، اپنی خودمختاری کے تحفظ سے متعلق عالمی اصولوں کا دفاع کرے گا اور تعاون کو کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے حقیقی مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔

فلسطین پر دو ریاستی حل

کینیڈین حکام کے مطابق مارک کارنی فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل سے متعلق ایک تقریب کی مشترکہ میزبانی بھی کریں گے۔

یہ تقریب ایسے وقت میں ہوگی جب تینوں ممالک کی جانب سے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔

حکام کے مطابق تقریب کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے حمایت کا اظہار جاری رکھنا اور اس حوالے سے اہم ترجیحات کے نفاذ اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہوگا۔

اسرائیلی بستیوں پر کینیڈا کا مؤقف

رواں ماہ کے آغاز میں کینیڈا نے بعض یورپی ممالک کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کی حمایت کا عہد کیا تھا۔

کینیڈا اور دیگر ممالک نے اسرائیل پر آبادکاروں کے تشدد کو بڑھانے اور بستیوں کی توسیع کی کوششوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان ممالک کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت بڑے پیمانے پر غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کا ریفرنڈم، مارک کارنی کی موجودگی نے مہم میں نئی بحث چھیڑ دی

یہودی تنظیم کا اعتراض

تاہم کینیڈا کی پالیسی پر ایک بڑی یہودی تنظیم نے اعتراض بھی کیا ہے۔سینٹر فار اسرائیل اینڈ جیوش افیئرز نے کہا کہ وہ خطے کے لیے پرامن مستقبل کے مقصد سے اتفاق کرتی ہے، تاہم اس کے مطابق اوٹاوا کا موجودہ طریقہ کار اسرائیل کے ساتھ مبینہ طور پر مختلف معیار اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

تنظیم نے کہا کہ کینیڈا کو اقوام متحدہ میں ایسا مؤقف اختیار کرنا چاہیے جو مستقل، تعمیری اور کینیڈین مفادات پر مبنی ہو، جبکہ اسرائیل کے حوالے سے مبینہ دوہرے معیار کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران کارنی اوشن آئی انٹرنیشنل الائنس کی ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں سمندری وسائل میں مستقل سرمایہ کاری اور کھلے سمندری ڈیٹا کی فراہمی پر بات ہوگی۔

اس تقریب میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین بھی شریک ہوں گی۔کارنی یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا اور کینیا کے صدر ولیم روٹو کے ساتھ کثیر ملکی تعاون مضبوط بنانے سے متعلق ایک گول میز اجلاس میں بھی حصہ لیں گے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کا معاملہ

کارنی کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اقوام متحدہ کو ادارے میں بڑی اصلاحات کے مطالبات کا سامنا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اقوام متحدہ کے نظام میں نمایاں تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ امریکا نے عالمی ادارے کے لیے بعض فنڈنگ بھی روک دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ عالمی ادارہ صحت اور یونیسکو سمیت اقوام متحدہ سے منسلک متعدد اداروں سے امریکا کی علیحدگی کا اعلان کرچکی ہے۔

اسی دوران اقوام متحدہ اپنے اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے عمل سے بھی گزر رہا ہے۔

کینیڈا کا عالمی کردار

کینیڈین حکومت کے مطابق مارک کارنی اقوام متحدہ میں ایسے شراکت داروں کے ساتھ کام کریں گے جو ایک زیادہ مؤثر عالمی ادارہ تشکیل دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق جیسے بنیادی مقاصد پر زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔

امریکا سے تعلقات میں کشیدگی

کارنی کا دورہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی اور سفارتی کشیدگی کے پس منظر میں بھی اہم ہے۔حالیہ دنوں میں کارنی نے یورپ سمیت دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ اسی دوران یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ممکنہ ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بنانے کی تجویز کا دروازہ کھولا تھا۔

ٹرمپ نے کینیڈا کے یورپی یونین کے ساتھ ممکنہ قریبی تعلق کو ’’ممکنہ دشمنانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے یورپ پر مزید محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی۔

ٹرمپ سے ملاقات کا امکان

کینیڈین حکام کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک بڑا عالمی اجتماع ہے، اس لیے اس بات کا امکان موجود ہے کہ مارک کارنی اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک دوسرے کے سامنے آسکتے ہیں۔تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکی انتظامیہ کے کسی رکن کے ساتھ کارنی کی باضابطہ ملاقات طے نہیں ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کریں گی، جبکہ وزیراعظم کارنی کی متعدد عالمی رہنماؤں اور اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کینیڈا کی موجودہ خارجہ پالیسی اور عالمی شراکت داریوں کو آگے بڑھانے پر مرکوز رہیں گی۔

ہمیں فالو کریں