اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اونٹاریو میں سرکاری ایلیمنٹری اسکولوں کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ایلیمنٹری ٹیچرز فیڈریشن آف اونٹاریو (ETFO) نے ہڑتال کے حق میں ووٹنگ کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ یونین کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں اساتذہ اور حکومت کے درمیان نئے معاہدے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
یونین کی فرسٹ وائس پریزیڈنٹ شرلی بیل نے تصدیق کی ہے کہ ETFO اپنے ارکان سے ہڑتال کے لیے ووٹ لے گی، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ووٹنگ کب ہوگی۔
84 ہزار ارکان
ETFO اونٹاریو کے سرکاری ایلیمنٹری اسکولوں سے وابستہ تقریباً 84 ہزار ارکان کی نمائندگی کرتی ہے۔ان ارکان میں مستقل اور عارضی اساتذہ کے علاوہ تعلیمی معاون عملہ، پیشہ ورانہ معاون عملہ اور مخصوص شعبوں میں کام کرنے والے ابتدائی بچپن کے تعلیم دینے والے افراد بھی شامل ہیں۔اس لیے ہڑتال کی اجازت کے لیے ہونے والی ووٹنگ صوبے کے پرائمری اور ایلیمنٹری تعلیمی نظام پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
ووٹنگ کی تاریخ واضح نہیں
یونین نے ہڑتال کے لیے ووٹنگ کا فیصلہ تو کرلیا ہے، لیکن اس مرحلے پر ووٹنگ کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔اس ووٹ کا مقصد فوری طور پر ہڑتال شروع کرنا نہیں بلکہ یونین کے ارکان سے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات میں ضرورت پڑنے پر ہڑتال سمیت دیگر قانونی اقدامات کے لیے تنظیم کو مینڈیٹ دیتے ہیں یا نہیں۔
حکومت کا ردعمل
اونٹاریو کی وزارتِ تعلیم نے ETFO کے اعلان پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے ہڑتال کی دھمکیوں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔وزارت کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کے مفاد میں نہیں اور والدین میں غیر ضروری تشویش پیدا کرسکتے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل توجہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور ایسا معاہدہ کرنے پر ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں طلبہ کلاس رومز میں موجود رہیں۔
مذاکرات میں رکاوٹ
اساتذہ کی بڑی یونینوں اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات پہلے ہی بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں۔تنازع کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ کن معاملات پر صوبائی سطح پر مرکزی مذاکرات ہونے چاہئیں اور کون سے معاملات مقامی یونینوں اور اسکول بورڈز کے درمیان طے کیے جانے چاہئیں۔یہ معاملہ اب اونٹاریو لیبر ریلیشنز بورڈ (OLRB) کے سامنے بھی موجود ہے۔
مرکزی اور مقامی معاملات کا تنازع
اساتذہ کی یونینوں کا الزام ہے کہ وزیرِ تعلیم پال کالینڈرا بعض ایسے معاملات کو بھی مرکزی مذاکرات کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں وہ مقامی سطح پر طے کیے جانے والے مسائل سمجھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اونٹاریو میں تجارتی جنگ سے متاثرہ کاروباروں کے لیے ایک ارب ڈالر کے امدادی پروگرام میں توسیع
یونینوں کے مطابق ان میں کام کے حالات سے متعلق بعض معاملات بھی شامل ہیں۔اس معاملے پر اختلاف نے مذاکرات کے عمل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے اور اس وقت بڑی تعلیمی یونینوں اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے کی طرف پیش رفت محدود دکھائی دے رہی ہے۔
OLRB میں کارروائی
وزارتِ تعلیم کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یونینوں کی جانب سے اونٹاریو لیبر ریلیشنز بورڈ سے رجوع کرنے کی وجہ سے مذاکرات کے آغاز میں تاخیر ہوئی ہے۔
وزارت کے مطابق حکومت یونینوں کے اس قانونی حق کا احترام کرتی ہے، تاہم OLRB میں جاری کارروائی نے اجتماعی مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کو مؤخر کردیا ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ بورڈ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہوگی اور جب بھی یونینیں بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گی، حکومت مذاکرات کرے گی۔
کیتھولک اساتذہ بھی میدان میں
ETFO کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اونٹاریو کی ایک اور بڑی اساتذہ تنظیم بھی ہڑتال کی ووٹنگ کا اعلان کرچکی ہے۔اونٹاریو انگلش کیتھولک ٹیچرز ایسوسی ایشن (OECTA) نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ نومبر میں اپنے ارکان سے ہڑتال کے حوالے سے ووٹ لے گی۔
OECTA نے اپنے ارکان کو بتایا تھا کہ ووٹنگ کے ذریعے حکومت کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ مذاکرات کی میز پر بامعنی پیش رفت ضروری ہے۔
یوں صوبے کے سرکاری اور کیتھولک تعلیمی نظام سے وابستہ بڑی یونینوں کی جانب سے ہڑتال ووٹنگ کے اعلانات نے تعلیمی شعبے میں جاری مذاکرات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
طلبہ اور والدین کی نظر مذاکرات پر
اونٹاریو میں اس صورتحال کے دوران طلبہ، والدین اور اسکول انتظامیہ کی توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت اور اساتذہ کی یونینیں نئے معاہدوں تک کب پہنچتی ہیں۔
اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی اور یونین کے ارکان نے ہڑتال کے حق میں مینڈیٹ دے دیا تو اس سے صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم صرف ہڑتال کے لیے ووٹنگ کا اعلان اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ اساتذہ فوری طور پر ہڑتال پر جائیں گے۔ حتمی صورتحال کا انحصار مذاکرات، OLRB کی کارروائی اور آئندہ ہونے والے فیصلوں پر ہوگا۔
فی الحال ETFO نے ووٹنگ کے انعقاد کی تصدیق کردی ہے، جبکہ اس کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد یونینوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
