مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال،یونیسیف کی تشویشناک رپورٹ جاری

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی بچوں کی صورتحال پر تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری 2024 سے اب تک کم از کم 174 فلسطینی بچے جاں بحق جبکہ 1500 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

ہر ہفتے ایک سے زیادہ فلسطینی بچے کی جان گئی

یونیسیف کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی برس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں ہر ہفتے ایک سے زیادہ فلسطینی بچہ جان سے گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرچکی ہے۔ زخمی بچوں میں تقریباً نصف ایسے ہیں جنہیں براہ راست گولیاں لگنے سے زخم آئے۔

بچوں کو مبینہ طور پر خطرہ نہ ہونے کے باوجود نشانہ بنایا گیا

یونیسیف کی عہدیدار نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ادارے نے ایسے واقعات بھی دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے ہیں جن میں فلسطینی بچوں کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ فوری خطرہ نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں :

پاکستان کا مقبوضہ مغربی کنارے کی بگڑتی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ

ان کے مطابق بعض بچوں کو فرار ہونے کی کوشش کے دوران بھی گولیاں ماری گئیں۔ یونیسیف نے بچوں کے خلاف تشدد کے دیگر واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

فائرنگ کے علاوہ دیگر تشدد کا بھی سامنا

حنان سلیمان کے مطابق فلسطینی بچوں کو فائرنگ کے علاوہ مار پیٹ، چاقو کے حملوں اور مرچوں والے اسپرے جیسے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں کے گھروں، روزگار کے ذرائع اور پانی کی بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے بچوں کی زندگی اور بنیادی ضروریات متاثر ہورہی ہیں۔

355 فلسطینی بچے اسرائیلی فوجی حراست میں

یونیسیف عہدیدار نے اسرائیلی جیل سروس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے کم از کم 355 فلسطینی بچے اسرائیلی فوجی حراست میں ہیں۔

مزید پڑھیں :

اسرائیل کا مغربی کنارے پر قبضہ ، 100ممالک کی مذمت

ان کے مطابق یہ تعداد گزشتہ آٹھ برس کے دوران سب سے زیادہ ہے۔ حراست میں موجود بچوں میں تقریباً نصف یعنی 164 بچے انتظامی حراست میں ہیں۔

164 بچوں کو انتظامی حراست میں رکھا گیا

یونیسیف کے مطابق انتظامی حراست ایسی صورت حال ہے جس میں کسی فرد کو باقاعدہ فرد جرم عائد کیے بغیر یا مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

یونیسیف نے بچوں کی حراست اور ان کے خلاف تشدد کے واقعات پر شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق بچوں کے خلاف تشدد اور حراست کے بڑھتے ہوئے واقعات نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کردیئے ہیں۔

یونیسیف کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار نے ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں جاری کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ہمیں فالو کریں