اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت بھرے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع، سلامتی اور امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت بھرے اور حوصلہ افزا کلمات کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے برادر ممالک ہیں اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون خطے کے وسیع تر مفاد میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
برادر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف برادر ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانا اور ممالک کے درمیان ایسے روابط پیدا کرنا ہونا چاہیے جو کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ٹرمپ کی قیادت کو خراج تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق صدر ٹرمپ کی قیادت نے جنوبی ایشیا میں ایک ممکنہ جوہری تباہی کو ٹالنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو اہم پیش رفت پر مبارکباد
شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے دوران امن کی کوششیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں اور خطے کے عوام کا مستقبل امن و استحکام سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کو بڑھنے سے روکنا اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا خطے کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔
پائیدار امن کو بنیادی شرط قرار دے دیا
وزیراعظم نے پائیدار امن کو عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے سب سے اہم بنیادی شرط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو باہمی اختلافات کے باوجود امن اور تعاون کے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ دفاعی تعاون کا مقصد بھی خطے میں استحکام کو فروغ دینا اور کسی ممکنہ خطرے کے مقابلے میں مشترکہ صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
شہباز شریف کے مطابق پاکستان اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں امن اور استحکام کو اہمیت دیتا ہے اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے معاہدے کو جرات مندانہ قدم قرار دیا
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ تینوں ممالک کی جانب سے معاہدے پر دستخط خوش آئند ہیں اور یہ ایک اہم اور جرات مندانہ قدم ہے۔
امریکی صدر کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدے سے خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بھی تعاون میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک اپنے دفاع کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں گے۔
ٹرمپ نے مکہ معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں اتحاد اور باہمی تعاون کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی قیادت کو مبارکباد بھی دی۔
دفاعی تعاون کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم مشترکہ دفاعی فریم ورک ان تعلقات کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی سے متعلق تعاون پہلے بھی جاری رہا ہے۔ نئے معاہدے کے بعد اس تعاون میں مزید وسعت آنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
مصر کی ممکنہ شمولیت
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر بھی اس معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
مصر کی ممکنہ شمولیت معاہدے کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرسکتی ہے اور خطے میں دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اگر مزید ممالک اس فریم ورک میں شامل ہوتے ہیں تو مکہ معاہدہ مستقبل میں ایک وسیع علاقائی دفاعی تعاون کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
تاہم معاہدے کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس کے تحت تینوں ممالک کس طرح مشترکہ دفاعی اقدامات، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھاتے ہیں۔
خطے کے مستقبل کے لیے اہم پیش رفت
وزیراعظم شہباز شریف کے بیان اور صدر ٹرمپ کے خیرمقدمی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک کے باہمی دفاعی تعاون تک محدود نہیں سمجھا جارہا بلکہ اسے وسیع علاقائی تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر علاقائی دفاع اور امن کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی حمایت، اس پیش رفت کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پائیدار امن کو عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیادی شرط قرار دے کر واضح کیا ہے کہ پاکستان دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اپنا کردار جاری رکھنا چاہتا ہے۔
