واٹس ایپ کا فراڈ سے بچاؤ کے لیے بڑا سیکیورٹی فیچر متعارف

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  واٹس ایپ نے صارفین کو آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے مشتبہ پیغامات کی نشاندہی کرے گا۔

فراڈ کی نشاندہی کے لیے نیا فیچر متعارف

دنیا بھر میں مقبول انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر صارفین کو مختلف اقسام کے آن لائن فراڈ کا سامنا رہتا ہے۔ جعلساز اکثر غیر معروف نمبروں سے پیغامات بھیج کر صارفین کو دھوکا دینے یا ان سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے واٹس ایپ نے نئے اسکیم الرٹ فیچر کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سہولت صارفین کو ممکنہ فراڈ پر مبنی گفتگو کی بروقت نشاندہی میں مدد دے گی۔

مصنوعی ذہانت مشتبہ گفتگو کا جائزہ لے گی

نئے فیچر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے پیغامات کا تجزیہ کیا جائے گا جو صارف کے محفوظ کانٹیکٹس میں شامل افراد کی جانب سے موصول نہیں ہوں گے۔

یہ نظام گفتگو کے انداز اور زبان میں موجود مختلف اشاروں کا جائزہ لے گا تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ متعلقہ پیغامات کسی ممکنہ فراڈ یا اسکیم کا حصہ تو نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :
چیٹ جی پی ٹی کا واٹس ایپ کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری

اس ٹیکنالوجی کا مقصد صارفین کو اس وقت خبردار کرنا ہے جب کسی غیر معروف اکاؤنٹ سے ہونے والی گفتگو میں دھوکا دہی کے امکانات نظر آئیں۔

مشتبہ چیٹ پر صارف کو انتباہ ملے گا

اگر واٹس ایپ کے نظام کو کسی گفتگو کے فراڈ پر مبنی ہونے کا شبہ ہوا تو صارف کو اسی چیٹ کے اندر ایک انتباہ دکھایا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق یہ وارننگ صرف اس صارف کو نظر آئے گی جسے مشتبہ پیغام موصول ہوا ہے۔ دوسرے شخص کو اس انتباہ کے بارے میں اطلاع نہیں دی جائے گی۔

اس طرح صارف کو کسی ممکنہ فراڈ کا شکار ہونے سے پہلے صورت حال کا جائزہ لینے کا موقع مل سکے گا۔

بلاک اور رپورٹ کرنے کی سہولت بھی موجود

انتباہ ظاہر ہونے کے بعد صارف کے پاس مختلف اختیارات ہوں گے۔ وہ مشتبہ اکاؤنٹ کو بلاک کرسکے گا یا اسے واٹس ایپ کو رپورٹ کرسکے گا۔

تاہم اگر صارف کو یقین ہو کہ گفتگو فراڈ پر مبنی نہیں تو وہ چاہے تو بات چیت جاری بھی رکھ سکتا ہے۔ اس طرح فیصلہ کرنے کا اختیار صارف کے پاس ہی رہے گا۔

فیچر خود فعال کرنا ہوگا

واٹس ایپ کے مطابق نیا فیچر خودکار طور پر فعال نہیں ہوگا بلکہ صارف کو اسے اپنی مرضی سے فعال کرنا ہوگا۔

فیچر فعال ہونے کے بعد واٹس ایپ کی جانب سے ایک مشین لرننگ ماڈل صارف کے ڈیوائس پر ڈاؤن لوڈ کیا جائے گا۔ یہی ماڈل پیغامات کا تجزیہ براہ راست صارف کے موبائل یا دیگر ڈیوائس پر کرے گا۔

صارفین کی پرائیویسی برقرار رکھنے کا دعویٰ

واٹس ایپ نے نئے فیچر کے حوالے سے صارفین کی پرائیویسی کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پیغامات کے تجزیے کے دوران گفتگو کا مواد واٹس ایپ کے سرورز، کسی تیسرے فریق یا اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا کو نہیں بھیجا جائے گا۔

مزید پڑھیں :
روس میں واٹس ایپ پر مکمل پابندی، ڈیجیٹل دنیا میں ہلچل

یعنی مشتبہ گفتگو کی شناخت کے لیے ضروری تجزیہ صارف کے اپنے ڈیوائس پر ہی کیا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا مقصد فراڈ سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ صارفین کی نجی گفتگو کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔

آن لائن فراڈ کے بڑھتے واقعات کے خلاف قدم

واٹس ایپ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف نوعیت کے فراڈ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ جعلساز غیر معروف نمبروں سے رابطہ کرکے صارفین کو انعامات، ملازمتوں، سرمایہ کاری یا دیگر جھوٹے دعووں کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔

نئے اسکیم الرٹ فیچر کے ذریعے واٹس ایپ صارفین کو ایسے مشتبہ رابطوں سے محتاط رہنے میں مدد دینا چاہتا ہے۔

کمپنی کے مطابق صارفین کی آگاہی اور احتیاط کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی آن لائن فراڈ کے خلاف ایک اضافی حفاظتی تہہ فراہم کرسکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں