اردو ورلڈ کینیڈا ( وب نیوز ) وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے استعفے کے حوالے سے ایرانی سفارتخانے نے ایک نیا دعویٰ سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عہدہ خاندان کو وقت دینے کے لیے نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہوکر چھوڑا۔
جنوبی افریقا میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیرولین لیویٹ کے استعفے کے پس پردہ وجوہات پر سوال اٹھائے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اپنے صدر کے رویے سے مایوس تھیں۔
ایرانی سفارتخانے نے کیا دعویٰ کیا؟
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا میں ایرانی سفارتخانے نے کیرولین لیویٹ کی ایک تصویر بھی جاری کی جس میں وہ ناخوشگوار انداز میں دکھائی دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
ایران کیساتھ جنگ بندی کا معاہدہ فوری ہونے کا امکان نہیں، وائٹ ہائوس
ایرانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ دھوکا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، خصوصاً اس وقت جب آپ کا سربراہ آپ کو خطرے میں ڈال دے اور خود فرار ہونے کی کوشش کرے۔ سفارتخانے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسی صورتحال میں رفاقت اور وفاداری سے متعلق تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی ایسے شخص سے اس سے زیادہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی جسے سفارتخانے نے انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
وائٹ ہاؤس نے ایرانی دعوے کو مسترد کردیا
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایرانی سفارتخانے کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کردی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایرانی سفارتخانے کا دعویٰ درست نہیں اور کیرولین لیویٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ترکیہ کے دورے میں موجود ہی نہیں تھیں۔
وائٹ ہاؤس کی تردید کے بعد کیرولین لیویٹ کے استعفے سے متعلق مختلف دعووں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ایک جانب ایرانی سفارتخانے نے استعفے کو صدر ٹرمپ سے مبینہ اختلاف کا نتیجہ قرار دیا جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا۔
استعفے کی وجہ کیا بتائی گئی؟
کیرولین لیویٹ کے استعفے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات میں خاندان کو وقت دینے کو ایک وجہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ایرانی سفارتخانے نے اسی مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ استعفے کی اصل وجہ صدر ٹرمپ سے مبینہ ناراضی اور مایوسی تھی۔
تاہم ایرانی سفارتخانے کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور وائٹ ہاؤس نے بھی اسے مسترد کردیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نیا تنازع
کیرولین لیویٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں اہم عہدے پر فائز رہی ہیں اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا سے رابطے اور حکومتی مؤقف کی وضاحت میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔
مزید پڑھیں :
حماس کے ساتھ مذاکرات جلد کامیاب ہوں گے،ترجمان وائٹ ہائوس
ان کے استعفے کے بعد اس کی وجوہات کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف بیانات نے معاملے کو مزید متنازع بنادیا ہے۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے سخت زبان میں کیا گیا بیان بھی سیاسی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے واضح تردید کے بعد ایرانی سفارتخانے کے دعوے کی حیثیت ایک الزام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس معاملے پر مزید وضاحت کیرولین لیویٹ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے سامنے آنے والے آئندہ بیانات سے ہی ہوسکتی ہے۔
